یہ اعدادوشمار اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ شدید گرمی اب صرف ایک موسمی کیفیت نہیں بلکہ ایک جان لیوا آفت بنتی جا رہی ہے۔ لیکن آخر یہ  ہیٹ ویو  کیا ہوتی ہے؟ یہ عام گرمی سے کیسے مختلف ہے؟ اور کیوں دنیا بھر کے سائنس دان اسے موسمیاتی تبدیلی کے سب سے خطرناک مظاہر میں شمار کر رہے ہیں؟

ہیٹ ویو کیا ہے؟

ہیٹ ویو ایسی صورتحال کو کہا جاتا ہے جب کسی علاقے میں کئی دن تک درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ رہے۔ لیکن صرف زیادہ درجہ حرارت ہی خطرہ نہیں ہوتا۔

اگر رات کے وقت بھی گرمی برقرار رہے، ہوا میں نمی زیادہ ہو اور جسم کو ٹھنڈا ہونے کا موقع نہ ملے تو انسان کے لیے خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

ایسی صورت میں جسم پسینے کے ذریعے اپنا درجہ حرارت کم نہیں کر پاتا، جس کے نتیجے میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی شدید کمی، دل کے دورے، گردوں کی خرابی اور سانس کی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

2026 میں دنیا بھر میں گرمی سے کتنی اموات ہوئیں؟

اس سوال کا ایک ہی عالمی عدد موجود نہیں، کیونکہ تمام ممالک گرمی سے ہونے والی اموات کو الگ سے ریکارڈ نہیں کرتے۔ کئی ممالک میں یہ اموات دل کے دورے، فالج، گردوں کی خرابی یا دیگر بیماریوں کے طور پر درج ہوتی ہیں، حالانکہ ان کی بنیادی وجہ شدید گرمی ہوتی ہے۔

2026 کے دوران فرانس، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں صرف آٹھ دن (20–28 جون) کے دوران کم از کم 3,700 اضافی اموات ریکارڈ ہوئیں، جن میں فرانس میں تقریباً 2,025، بیلجیم میں 1,200 اور نیدرلینڈز میں 480 اضافی اموات شامل ہیں۔

یورپ کے دیگر ممالک کے ابتدائی اعداد شامل کیے جائیں تو بعض ابتدائی تخمینے 4,000 سے زائد اضافی اموات کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم یہ اعداد ابھی حتمی نہیں ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا میں 2000 سے 2019 کے دوران اوسطاً سالانہ تقریباً 4 لاکھ 89 ہزار افراد گرمی سے متعلق وجوہات کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں تقریباً 45 فیصد اموات ایشیا اور 36 فیصد یورپ میں ہوئیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ 2026 کی عالمی مجموعی تعداد ابھی دستیاب نہیں، لیکن ابتدائی اعداد واضح کرتے ہیں کہ شدید گرمی اب دنیا کے لیے ایک بڑھتا ہوا صحت کا بحران بن چکی ہے۔

گرمی آخر جان کیسے لیتی ہے؟

عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ شدید گرمی صرف ہیٹ اسٹروک کا باعث بنتی ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

شدید گرمی کے دوران جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔ دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، خون گاڑھا ہونے لگتا ہے، پانی کی کمی گردوں کو متاثر کرتی ہے اور دماغ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

اسی لیے گرمی سے مرنے والے ہر شخص کی موت کا سبب  ہیٹ اسٹروک  نہیں لکھا جاتا۔ بہت سے افراد دل کے دورے، فالج، گردوں کی خرابی یا سانس کی بیماریوں سے انتقال کرتے ہیں، جن کی بنیادی وجہ شدید گرمی ہوتی ہے۔

سب سے زیادہ خطرے میں کون؟

ہر انسان شدید گرمی سے متاثر ہو سکتا ہے، لیکن کچھ طبقات جیساکہ65 سال سے زائد عمر کے افراد، بچ، خصوصاً شیر خوار، حاملہ خواتین، دل، گردوں اور پھیپھڑوں کے مریض، کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدور، کسان، ٹریفک پولیس اور تعمیراتی کارکن، ایسے افراد جن کے گھروں میں ایئر کنڈیشننگ یا مناسب ٹھنڈک موجود نہ ہو زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

کیا موسمیاتی تبدیلی اس کی وجہ ہے؟

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ ہیٹ ویوز میں موسمیاتی تبدیلی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں نے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں شدید گرمی کی لہریں پہلے کے مقابلے میں زیادہ بار، زیادہ دیر تک اور زیادہ شدت کے ساتھ آ رہی ہیں۔

حالیہ یورپی ہیٹ ویو کے بارے میں بھی محققین کا کہنا ہے کہ اس کی شدت پر موسمیاتی تبدیلی کا نمایاں اثر تھا۔

پاکستان بھی محفوظ نہیں

اگرچہ حالیہ خبروں میں یورپ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، لیکن پاکستان بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں شدید گرمی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں ہر سال ہیٹ ویوز زیادہ شدید ہو رہی ہیں۔ بڑے شہروں میں کنکریٹ، کم درخت اور بڑھتی آبادی نے  اربن ہیٹ آئی لینڈ  کا مسئلہ بھی پیدا کر دیا ہے، جہاں شہروں کا درجہ حرارت اردگرد کے علاقوں سے کئی ڈگری زیادہ ہو سکتا ہے۔

اس خاموش قاتل سے کیسے بچا جائے؟

ماہرین چند بنیادی احتیاطی تدابیر پر زور دیتے ہیں کہ دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں۔ پانی اور دیگر سیال مشروبات زیادہ استعمال کریں۔ ہلکے رنگ اور ڈھیلے کپڑے پہنیں۔ بزرگوں، بچوں اور مریضوں کا خصوصی خیال رکھیں۔

حکومتیں ہیٹ ایکشن پلان، ٹھنڈک مراکز، زیادہ درخت لگانے اور بروقت ہیٹ الرٹس جیسے اقدامات کو مضبوط بنائیں۔

ایک خاموش بحران

زلزلہ، سیلاب یا طوفان اپنی تباہی فوراً دکھا دیتے ہیں، لیکن ہیٹ ویوز خاموشی سے جانیں لیتی ہیں۔ نہ عمارتیں گرتی ہیں، نہ دھماکے ہوتے ہیں، مگر اسپتال بھر جاتے ہیں اور اموات کا گراف خاموشی سے اوپر چلا جاتا ہے۔

یورپ میں صرف آٹھ دنوں کے دوران 3,700 سے زائد اضافی اموات اس بات کا ثبوت ہیں کہ شدید گرمی اب محض موسم کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ ایک عالمی صحت، معیشت اور انسانی سلامتی کا بحران بن چکی ہے۔

اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار کم نہ ہوئی اور شہروں کو شدید گرمی کے مطابق ڈھالنے کے اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں ہیٹ ویوز دنیا کے سب سے بڑے خاموش قاتلوں میں شامل ہو سکتی ہیں۔