حوثی عسکری قیادت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک کسی بھی بحری سرگرمی کو اب مکمل طور پر بند تصور کیا جائے گا اور اس فیصلے کے بعد اس راستے پر سفر کرنے والے تمام اسرائیلی یا اسرائیل سے منسلک بحری جہاز “جائز فوجی ہدف” تصور ہوں گے۔
گروپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ “ہم بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری نقل و حرکت پر مکمل اور جامع پابندی عائد کرتے ہیں” اور اس فیصلے کے بعد کسی بھی خلاف ورزی کو براہ راست عسکری کارروائی سے جوڑا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثی گروپ اس سے قبل بھی غزہ جنگ کے دوران بحیرہ احمر اور قریبی آبی گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے یا ان کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کارروائیاں کر چکا ہے۔ اس وقت متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو مجبوراً افریقہ کے جنوبی ساحل کے گرد طویل اور مہنگا راستہ اختیار کرنا پڑا تھا۔
🇾🇪 The Yemeni Armed Forces:
— PAryan 8🪽8 (@RebelGoy88) June 8, 2026
We announce a complete and total naval blockade against the Israeli enemy in the Red Sea, and we consider all the enemy s movements a military target for our armed forces from the moment of the declaration of this statement. pic.twitter.com/M4wgfx3cWj
تازہ صورتحال نے ایک بار پھر عالمی تجارت کے اہم راستے بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
حوثی گروپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے مختلف “حساس اہداف” پر میزائل داغے ہیں اور یہ حملے “اپنے اہداف پر درستگی کے ساتھ اثر انداز ہوئے”۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن کی جانب سے میزائل فائر کیے جانے کی نشاندہی ہوئی ہے، جس کے بعد فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا تاکہ ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق دفاعی اقدامات جاری ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان محدود نوعیت کی جھڑپوں اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے کسی بڑے تنازع کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کاروں کے مطابق حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہازوں پر پابندی کا اعلان نہ صرف بحری تجارت کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی توانائی سپلائی چین پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ حوثی گروپ اور لبنان میں موجود حزب اللہ کو ایران کے حامی مسلح گروہوں کے “محورِ مزاحمت” کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جو خطے میں اسرائیل اور امریکا کے خلاف مختلف سطحوں پر سرگرم ہیں۔
حوثیوں نے 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر کے حکومت کو بے دخل کیا تھا، جس کے بعد ملک میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں شروع ہونے والی فوجی مداخلت نے اس جنگ کو مزید شدت دی، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک اور یمن شدید انسانی بحران کا شکار ہوا۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اگر مزید بگڑتی ہے تو نہ صرف خطے میں بحری تجارت متاثر ہوگی بلکہ عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔






