ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ انہیں ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ یورپی رہنماؤں نے یوکرین جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے مؤقف پر کوئی اثر ڈالا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کا ہر ذمہ دار رہنما اپنے اتحادیوں اور مخالفین دونوں کی آرا ضرور سنتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ وہ اپنی سیاسی بصیرت اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے خود کرتا ہے۔
ولادیمیر پوتن نے الاسکا میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس ملاقات میں کسی باضابطہ معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے تھے، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان مختلف اہم عالمی اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور ممکنہ سمجھوتوں کے کئی نکات زیر غور آئے۔
روسی صدر کے مطابق امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی بعض تجاویز پر روس نے مثبت ردعمل دیا تھا اور ماسکو مستقبل میں بھی واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے، اختلافات کے باوجود بات چیت ہی مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ ہے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز پر کوئی ٹول نہیں ہوگا، ورنہ مذاکرات فوری ختم کر دیں گے: ڈونلڈ ٹرمپ
پوتن نے مزید کہا کہ الاسکا ملاقات کے دوران زیر بحث آنے والے تمام نکات پر مزید تفصیلی مذاکرات کے لیے روس مکمل طور پر تیار ہے، اگر دونوں ممالک سنجیدگی کے ساتھ سفارتی عمل کو آگے بڑھائیں تو کئی اہم معاملات میں پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔
روسی صدر نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ عالمی امن و استحکام کے لیے امریکہ اور روس کے درمیان رابطوں کا تسلسل نہایت اہم ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔






