برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ پیٹریاٹ میزائل دنیا کے جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے ان کی تیاری یا اس سے متعلق لائسنس کسی بھی ملک کو معمول کے مطابق فراہم نہیں کیا جا سکتا، ایسے حساس دفاعی نظام کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے سے قبل تمام سکیورٹی اور تزویراتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ یوکرین کو دفاعی تعاون جاری رکھنے پر غور کر رہی ہے، تاہم پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی مقامی پیداوار کی اجازت فی الحال ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف آئندہ چند روز میں یوکرین کا دورہ کریں گے، اس دورے کے دوران یوکرین کی قیادت سے سکیورٹی صورتحال، دفاعی تعاون، جنگ کی موجودہ صورت حال اور مستقبل کی امریکی حکمت عملی پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ادھر روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ بدستور شدت اختیار کیے ہوئے ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف فضائی حملے، میزائل کارروائیاں اور زمینی محاذوں پر آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں روسی حملوں کے نتیجے میں یوکرین کے مختلف علاقوں میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور مغربی اتحادی یوکرین کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے مختلف نوعیت کی عسکری امداد فراہم کر رہے ہیں، تاہم حساس دفاعی ٹیکنالوجی اور جدید میزائل نظام کی منتقلی کے حوالے سے فیصلے اب بھی سخت سکیورٹی اصولوں کے تحت کیے جا رہے ہیں۔







