بن گویر نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا۔ اسرائیل امریکا کے تابع نہیں بلکہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے۔ اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں اور یہ معاہدہ اسرائیل کی سلامتی کو یقینی نہیں بناتا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو حزب اللہ کے مکمل خاتمے سے کم کسی چیز پر رضامند نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی لبنان میں ان علاقوں سے دستبردار ہونا چاہیے جنہیں اسرائیلی فوج نے اپنے کنٹرول میں لیا ہے۔

بن گویر نے کہا کہ ماضی میں جب بھی اسرائیل نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کیا، اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ اوسلو اکارڈز 2006 کے لبنان معاہدے اور غزہ سے متعلق سابقہ پالیسیوں نے اسرائیل کے لیے سیکیورٹی چیلنجز پیدا کیے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان سے اسرائیل پر کسی بھی ڈرون، میزائل یا راکٹ حملے کا جواب بیروت کے علاقے الضاحیہ میں کارروائی کی صورت میں دیا جانا چاہیے۔ 

اسرائیلی وزیر نے کہا کہ اسرائیل کو اپنی دفاعی حکمت عملی اور فوجی آزادیِ عمل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے بھی معاہدے کو ’اسرائیل کے لیے نقصان دہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف مشترکہ امریکی اور اسرائیلی مہم نے اہم کامیابیاں حاصل کیں، تاہم ایران کے خلاف دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

سموٹریچ نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنی شمالی سرحدوں کے تحفظ کے لیے مضبوط مؤقف اپنانا ہوگا۔

اسرائیل کے سابق وزیر دفاع اور اپوزیشن رہنما بینی گانٹز نے بھی مجوزہ سفارتی انتظامات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے جو لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائی کی آزادی کو محدود کرے یا ایسی واپسی پر مجبور کرے جس سے شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کی سلامتی متاثر ہو۔

مزید پڑھیں: امریکا و ایران کے درمیان معاہدہ مکمل، مسودے کے اہم نکات کیا ہیں؟

خیال رہے کہ یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو بحری تجارت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے گی۔

اسرائیلی حکومت کے متعدد رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یروشلم اس معاہدے کے بعض پہلوؤں سے مطمئن نہیں اور اسرائیل اپنی سلامتی سے متعلق پالیسیوں میں کسی بیرونی پابندی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔