برطانوی جریدے اکانومسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں ترکیہ اور اسرائیل کے تعلقات میں نمایاں تناؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں شام کی صورتحال، دفاعی حکمت عملی، علاقائی اتحاد اور سفارتی اختلافات شامل ہیں، دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا مزید کمزور ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث خطے میں نئی سیاسی اور سکیورٹی صف بندی کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو شام میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور وہاں اس کے اثر و رسوخ میں اضافے پر تحفظات ہیں۔ اس کے علاوہ مصر، پاکستان اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے ساتھ ترکیہ کے دفاعی تعاون اور عسکری روابط کو بھی اسرائیل تشویش کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔

اکانومسٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے آرمینیائی نسل کشی کو تسلیم کرنے کے معاملے نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تلخی پیدا کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی سیاسی حلقوں میں ترکیہ کو اب خطے میں ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے ساتھ اختلافات مسلسل بڑھ رہے ہیں، اور بعض اسرائیلی سیاست دان اپنی تقاریر اور بیانات میں ترکیہ کا ذکر ایران کے ساتھ کرتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ترکیہ کو جدید ایف-35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع فیصلے نے اسرائیل کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی حلقوں کو خدشہ ہے کہ اگر ترکیہ کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوئی تو خطے میں عسکری توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی اسرائیل کے حوالے نہیں کریں گے، لبنانی صدر

برطانوی جریدے کے مطابق موجودہ صورتحال اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ ترکیہ اور اسرائیل اب ایک دوسرے کو صرف سیاسی حریف نہیں بلکہ براہِ راست سکیورٹی چیلنج کے طور پر بھی دیکھنے لگے ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی سیاست، دفاعی تعاون اور سفارتی تعلقات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضح ر ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات شام، مشرقی بحیرہ روم اور خطے کے دیگر اہم تنازعات پر بھی پڑ سکتے ہیں، جبکہ علاقائی طاقتوں کے درمیان نئی سفارتی صف بندیاں بھی سامنے آنے کا امکان ہے۔