خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن مئی کے آغاز میں شروع ہوا تھا، جس میں فضائی ڈرونز، آبی ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے تیل بردار قافلوں کی رہنمائی کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم 92 بحری جہاز اس نظام کا حصہ بن چکے ہیں، جبکہ تیل کی منتقلی متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ اور عمان کے شہر صحار کے قریب دو مختلف مقامات پر کی جا رہی ہے۔
رائٹرز کی جانب سے جائزہ لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں ایک ہی وقت میں متعدد آئل ٹینکروں کے درمیان تیل کی منتقلی دیکھی گئی۔ صرف 11 جون کو ہی 17 جوڑے جہاز ان مقامات پر منتقلی کے عمل میں مصروف تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ طریقہ کار اس نظام سے مشابہت رکھتا ہے جسے ایران طویل عرصے سے پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے، جہاں چھوٹے ٹینکر آبنائے ہرمز سے تیل منتقل کرتے ہیں اور بعد میں اسے آبنائے سے باہر انتظار کرنے والے بڑے جہازوں تک پہنچا دیتے ہیں۔
یہ آپریشن ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فروری میں شروع ہونے والے امریکہ-اسرائیل تنازع کے بعد ایران نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت کو محدود کر دیا تھا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اس آپریشن میں شامل ٹینکرز اپنے ٹرانسپونڈرز بند اور روشنیاں مدھم رکھ کر مخصوص بحری راستوں سے گزرتے ہیں، جبکہ ان کی نقل و حرکت پر مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔
آبنائے سے باہر نکلنے کے بعد یہ جہاز اپنا تیل ویری لارج کروڈ کیریئرز (وی ایل سی سیز) کو منتقل کرتے ہیں، جو بعد میں اسے عالمی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔
ایک امریکی دفاعی عہدیدار نے اس بات کی تردید کی ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی افواج براہِ راست سمندر میں تیل کی منتقلی کی کارروائیوں میں شامل ہیں۔
تاہم رائٹرز کے حوالے سے متعدد ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نگرانی، ضابطوں کی جانچ اور بحری سفر کی مانیٹرنگ کے ذریعے اس پورے نظام کی قریبی سطح پر ہم آہنگی کر رہی ہے۔
رائٹرز کے اندازے کے مطابق مئی کے آغاز سے اب تک تقریباً 90 ملین بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات اس نیٹ ورک کے ذریعے منتقل کی جا چکی ہیں، اگرچہ یہ مقدار تنازع سے پہلے کی برآمدات کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر کم ہے۔
رپورٹ میں حفاظتی خدشات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ شپنگ انڈسٹری سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ ٹریکنگ سسٹمز اور نیویگیشن لائٹس بند کرکے سفر کرنے والے جہازوں کو تصادم کے زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
خلیجی خطے کے بڑے توانائی برآمد کنندگان، جن میں متحدہ عرب امارات کی ایڈنوک اور کویت آئل ٹینکر کمپنی شامل ہیں، اس منتقلی نیٹ ورک کے اہم شرکاء کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
اس آپریشن کو خطے میں جاری سفارتی کوششوں کے دوران عالمی توانائی کی سپلائی برقرار رکھنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں، جہاں دونوں فریق ایسے اقدامات پر بات چیت کر رہے ہیں جو بالآخر آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے اور توانائی کی معمول کی ترسیل بحال کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔






