ماہرین کے مطابق اس دورے کی اہمیت اس بات میں نہیں کہ شی جن پنگ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان ملاقات کر رہے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ چینی صدر خود پیانگ یانگ پہنچے ہیں۔ شی جن پنگ نے آخری بار 2019 میں شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کو شمالی کوریا اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون پر تشویش ہے۔
روس کی یوکرین جنگ کے بعد پیانگ یانگ نے ماسکو کو اسلحہ، گولہ بارود اور افرادی قوت فراہم کی، جب کہ مختلف اندازوں کے مطابق روس نے اس کے بدلے شمالی کوریا کو اربوں ڈالر مالیت کی ادائیگیاں اور ممکنہ طور پر حساس فوجی ٹیکنالوجی فراہم کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روسی تعاون کے نتیجے میں شمالی کوریا کی عسکری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو یہ جزیرہ نما کوریا میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے، جو چین کے لیے بھی باعثِ تشویش ہے۔
China said President Xi Jinping s visit to North Korea will ensure bilateral ties keep up with the times, after the country s state media announced earlier in the day that Xi will go on a two-day trip from June 8 — his first in nearly seven years https://t.co/pZ2Lo5zmNC pic.twitter.com/2dBl6xJOBQ
— Reuters (@Reuters) June 5, 2026
شمالی کوریا رواں سال متعدد میزائل تجربات کر چکا ہے، جب کہ حال ہی میں ایک نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے رہنمائی حاصل کرنے والے کروز میزائل کی بھی نمائش کی گئی۔
شمالی کوریائی میڈیا نے حالیہ دنوں میں کم جونگ ان کی ایک ایسے مرکز کے دورے کی تصاویر بھی جاری کیں جہاں جوہری ہتھیاروں کے لیے مواد تیار کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب جنوبی کوریا نے امید ظاہر کی ہے کہ شی جن پنگ کا دورہ جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کم کرنے اور علاقائی مسائل کے حل میں مثبت کردار ادا کرے گا۔
مبصرین کے مطابق چینی صدر شمالی کوریا کے رہنما سے امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات، روس کے ساتھ تعلقات اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی بات چیت کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کو جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیان ممکنہ دفاعی تعاون کے بڑھتے امکانات پر بھی تشویش ہے، جس کے باعث بیجنگ خطے میں اپنی سفارتی سرگرمیوں کو مزید متحرک کر رہا ہے۔
نوٹ: واضح رہے کہ یہ غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی فیچرڈ اسٹوری کا اردو ترجمہ ہے۔





