یہ غیر موجودگی مجتبیٰ علی خامنہ کی تھی، جو اپنے والد کی شہادت کے بعد ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ہو چکے ہیں، مگر نہ نمازِ جنازہ میں دکھائی دیے اور نہ ہی عوامی جنازے کے جلوس میں کہیں نظر آئے۔
یہ سوال اب صرف ایرانی عوام ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پوچھ رہی ہے کہ آخر نئے رہبر اپنے والد کے جنازے میں کیوں شریک نہیں ہوئے؟
آیت اللہ علی خامنہ ای کون تھے؟
علی خامنہ ای تقریباً چار دہائیوں تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ وہ 1989 میں امام خمینی کے انتقال کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے اور ایران کی خارجہ پالیسی، دفاعی حکمت عملی، جوہری پروگرام اور سپاہ پاسداران سمیت ریاست کے تمام اہم اداروں پر ان کا حتمی اختیار تھا۔
ان کے دور میں ایران نے امریکااور اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا، جب کہ خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے اثرورسوخ بھی بڑھایا۔
The moment when Ayatollah Javadi Amoli and the crowds at the funeral prayer for the martyred Leader of the Islamic Revolution Ayatollah Seyyed Ali Khamenei were overcome with emotion and tears. pic.twitter.com/Kx3bbWS3fi
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) July 7, 2026
وہ کیسے شہید ہوئے؟
ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری 2026 کو تہران میں ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے۔
اس حملے میں ان کے خاندان کے متعدد افراد بھی مارے گئے، جن میں ان کی بیٹی، داماد، بہو اور ایک نواسی شامل تھے۔ ایران نے اس واقعے کو شہادت قرار دیا جب کہ امریکا اور اسرائیل نے اسے اپنی فوجی کارروائی کا حصہ بتایا۔
جنازہ فوری کیوں نہیں ہوا؟
اسلامی روایت کے برعکس آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین فوری نہیں ہو سکی۔ اس کی بڑی وجہ ایران پر جاری حملے، غیر معمولی سکیورٹی صورتحال اور حکام کی جانب سے ایسے جنازے کی تیاری تھی جس میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع تھی۔
اسی لیے ان کی آخری رسومات کئی ماہ مؤخر رہیں اور اب جولائی 2026 میں سات روزہ سرکاری پروگرام کے تحت شروع کی گئیں۔
نمازِ جنازہ کب اور کہاں ادا کی گئی؟
ریاستی تقریبات کا آغاز تہران کے امام خمینی مصلیٰ سے ہوا، جہاں لاکھوں سوگواروں نے خامنہ ای کی میت کا دیدار کیا۔
بعد ازاں مرکزی نمازِ جنازہ بھی اسی مقام پر ادا کی گئی، جس میں ایرانی قیادت، فوجی حکام، مذہبی شخصیات اور مختلف ممالک کے سرکاری وفود نے شرکت کی۔
نمازِ جنازہ کس نے پڑھائی؟
ابتدائی قیاس آرائیاں تھیں کہ شاید نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ پڑھائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ رپورٹس کے مطابق نمازِ جنازہ خامنہ ای کے تین بیٹوں نے مشترکہ طور پر ادا کی، جب کہ مجتبیٰ خامنہ ای تقریب میں موجود نہیں تھے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کہاں ہیں؟
یہی وہ سوال ہے جس نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔ ایرانی حکومت نے ان کی عدم موجودگی کی باضابطہ وضاحت نہیں کی۔
اس کے برعکس مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ فروری کے حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے اور اسی وجہ سے وہ اب تک عوامی سطح پر ظاہر نہیں ہوئے۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات بھی ان کی غیر موجودگی کی ایک اہم وجہ ہیں، تاہم پاکستان میٹرز ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
مجتبیٰ خامنہ ای آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں۔ وہ کئی برسوں سے ایرانی مذہبی اور سیاسی حلقوں میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے رہے، اگرچہ انہوں نے کبھی کوئی عوامی حکومتی عہدہ نہیں سنبھالا۔
اپنے والد کی شہادت کے بعد ایران کی مجلس خبرگان نے انہیں نیا سپریم لیڈر منتخب کیا، جس کے بعد وہ ملک کے اعلیٰ ترین مذہبی اور آئینی منصب پر فائز ہوگئے۔
آخری رسومات کہاں تک پہنچی ہیں؟
سرکاری پروگرام کے مطابق خامنہ ای کی آخری رسومات کئی مراحل پر مشتمل ہیں۔ تہران میں عوامی دیدار اور نمازِ جنازہ، تہران میں مرکزی جنازے کا جلوس، قم میں مذہبی تقریبات، عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں تعزیتی پروگرام اور آخر میں ان کی تدفین مشہد میں امام رضاؑ کے روضے میں کی جائے گی، جو ان کی جائے پیدائش بھی ہے۔
امام رضاؑ کے روضے میں تدفین کیوں؟
مشہد صرف ایران کا نہیں بلکہ پوری شیعہ دنیا کا ایک اہم ترین مذہبی مرکز ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای خود بھی مشہد میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے ان کی تدفین امام رضاؑ کے روضے میں کرنے کا فیصلہ مذہبی، تاریخی اور علامتی اہمیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام اسے انقلابِ اسلامی کی قیادت اور شیعہ مذہبی روایت کے درمیان ایک مضبوط ربط کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال کیا ہے؟
اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا جا چکا ہے، لیکن ان کی مسلسل عوامی غیر موجودگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایرانی ریاست فی الحال ادارہ جاتی تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جب کہ نئی قیادت کی عملی حیثیت اور عوامی موجودگی پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
Thousands gathered as the funeral procession for late Iranian Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei weaved through Qom, one of the holiest cities in Shia Islam pic.twitter.com/ttIORhpQ6c
— Reuters (@Reuters) July 7, 2026
آگے کیا ہوگا؟
ایران اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں چند اہم پہلو توجہ کا مرکز رہ سکتے ہیں جیسا کہ کیا مجتبیٰ خامنہ ای پہلی مرتبہ عوام کے سامنے آئیں گے؟ کیا وہ اپنے والد کی خارجہ پالیسی کو برقرار رکھیں گے یا اس میں تبدیلی آئے گی؟
ان کے علاوہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کس رخ پر جائے گی؟ اور کیا سپاہ پاسداران نئی قیادت کے ساتھ پہلے جیسا کردار ادا کرتی رہے گی؟
ان سوالات کے جواب صرف ایران کی داخلی سیاست ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایران کی طاقت، قیادت اور مستقبل کا ایک علامتی منظر بھی بن چکی ہیں۔
لاکھوں افراد کی موجودگی، عالمی وفود کی شرکت اور سب سے بڑھ کر نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی پراسرار غیر موجودگی نے اس جنازے کو محض سوگواری کی تقریب سے کہیں بڑھ کر ایک سیاسی اور تاریخی واقعہ بنا دیا ہے۔
اب دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ خامنہ ای کے بعد ایران کی قیادت کس سمت میں آگے بڑھتی ہے اور آیا مجتبیٰ خامنہ ای جلد عوام کے سامنے آ کر ان تمام سوالات کا عملی جواب دیتے ہیں یا نہیں۔






