ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن وعدۂ صادق 4 کی 84ویں لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے دوران امریکی ایندھن بھرنے والے متعدد طیاروں اور ان کے لاجسٹک سپورٹ بیڑے کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں ایئربیسز کے استعمال کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے بحریہ کے تعاون سے ایک خصوصی مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن کیا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس کارروائی کے دوران دشمن کے اینٹی میزائل دفاعی نظام کو تباہ کیا گیا اور ٹھوس و مائع ایندھن والے میزائلوں کے ذریعے الخرج بیس کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جہاں موجود ایندھن بھرنے والے اور فضائی معاونت فراہم کرنے والے طیاروں کو ڈرونز اور میزائل حملوں سے شدید نقصان پہنچایا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس مؤثر کارروائی کے نتیجے میں دشمن کے متعدد بڑے اور بھاری ایندھن بردار اور معاون طیارے تباہ یا شدید متاثر ہوئے ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ حملوں کی اس لہر کو اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کے شہدا اور اس سے وابستہ کارکنوں کے نام منسوب کیا گیا ہے۔

اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں خطے میں موجود امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے پڑوسی ممالک کے عوام کو ان تنصیبات سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی اور صہیونی افواج، جنہیں اپنے فوجی اڈوں کے دفاع کی صلاحیت حاصل نہیں، مبینہ طور پر شہری تنصیبات کو استعمال کرتے ہوئے عام لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا تھا کہ ایرانی شہریوں اور قیادت کو نشانہ بنانے والی امریکی اور اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائی کرنا ان کا فرض ہے، لہٰذا شہریوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ امریکی فوجی مراکز سے دور رہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی مسلح افواج اس سے قبل بھی آپریشن وعدۂ صادق کے تحت جدید ڈرونز اور میزائلوں کی 83 لہروں کے ذریعے مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی فوجی تنصیبات، امریکی اڈوں اور مغربی ایشیا میں موجود دیگر اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر چکی ہیں۔