امریکی حکام کے مطابق وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد واشنگٹن نے جنوبی امریکی اوپیک رکن ملک کے ساحلی پانیوں میں پابندیوں کے شکار جہازوں کی آمد و رفت روک دی ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ اور فوج نے مارینیرا نامی ٹینکر کو تحویل میں لیا، جس نے گزشتہ ماہ تلاشی سے انکار کیا تھا اور بعد ازاں اپنا پرچم روسی پرچم میں تبدیل کر لیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بحرِ اوقیانوس میں دو ہفتوں تک جاری تعاقب کے دوران روسی آبدوز اور بحری جہاز بھی اس علاقے میں موجود تھے، جس کے باعث ماسکو کے ساتھ تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ روس پہلے ہی یوکرین جنگ کے باعث مغربی ممالک سے کشیدہ تعلقات رکھتا ہے اور اس نے وینزویلا کے معاملے پر امریکی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔
روسی سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی نے ایک تصویر نشر کی جس میں ایک ہیلی کاپٹر مارینیرا (جسے پہلے بیلا-1 کہا جاتا تھا) کے قریب منڈلاتا دکھائی دیتا ہے اور دعویٰ کیا کہ امریکی فورسز خالی ٹینکر پر قبضے کی کوشش کر رہی تھیں۔
امریکی حکام کے مطابق کوسٹ گارڈ نے وینزویلا سے منسلک ایک اور مکمل طور پر تیل سے بھرے جہاز “صوفیہ” کو بھی جنوبی امریکا کے شمال مشرقی ساحل کے قریب روک لیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں یہ اس نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے۔
ادھر ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے جس کے تحت چین کو جانے والا تیل روکا جا سکے اور امریکا تقریباً دو ارب ڈالر مالیت کا خام تیل درآمد کرے۔ اس منصوبے کے تحت چین کے لیے روانہ ہونے والے تیل کے کارگو کو متبادل راستوں پر موڑا جا سکتا ہے، کیونکہ وینزویلا لاکھوں بیرل تیل ذخیرہ گاہوں اور جہازوں میں پھنسا ہوا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماو ننگ نے امریکی اقدام کو “کھلی دھونس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا وینزویلا کے اپنے وسائل پر “امریکا فرسٹ” کا نعرہ مسلط کر رہا ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں کھلے عام وینزویلا کے وسیع تیل ذخائر پر امریکی کنٹرول کی بات کر چکے ہیں، اور نکولس مادورو کو امریکا کے دشمنوں کے ساتھ منسلک منشیات فروش آمر قرار دیتے رہے ہیں۔
وینزویلا میں مادورو کی سوشلسٹ جماعت کے اتحادی اب بھی اقتدار میں ہیں، جب کہ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک جانب وہ مادورو کی گرفتاری کو اغوا قرار دے رہی ہیں، تو دوسری جانب ٹرمپ کی دھمکیوں کے تحت امریکا سے تعاون کے امکانات بھی تلاش کر رہی ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا وینزویلا میں پھنسے ہوئے پانچ کروڑ بیرل تک خام تیل کو ریفائن اور فروخت کرے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم ان کے بقول امریکا اور وینزویلا کے عوام کی فلاح کے لیے استعمال کی جائے گی۔ اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
چین، روس اور وینزویلا کے بائیں بازو کے اتحادیوں نے مادورو کی گرفتاری کے لیے امریکی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے، جسے 1989 میں پاناما پر امریکی حملے کے بعد لاطینی امریکا میں سب سے بڑی مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکا کے اتحادی ممالک بھی کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت کو گرفتار کرنے کی اس غیر معمولی مثال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکی اسپیشل فورسز نے ہفتے کی رات ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کاراکاس میں کارروائی کرتے ہوئے مادورو کو ایک محفوظ کمرے کے دروازے سے گرفتار کیا۔ امریکی فورسز کے کسی اہلکار کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی، تاہم وینزویلا کی فوج نے اپنے 23 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جب کہ کیوبا کے مطابق اس کے 32 فوجی و انٹیلی جنس اہلکار بھی مارے گئے۔
7/
— GeoTechWar (@geotechwar) January 7, 2026
US seizes Venezuela/Russia-linked oil tanker Marinera (Bella 1), sailing under a Russian flag, in the North Atlantic after a weeks-long pursuit, US officials say.https://t.co/NEFJue6QBT
خیال رہے کہ 63 سالہ نکولس مادورو نے پیر کے روز نیویارک کی عدالت میں منشیات کے الزامات کے تحت پیشی کے دوران الزامات سے انکار کیا۔ وہ ہتھکڑیوں میں ملبوسِ قیدی عدالت میں پیش ہوئے۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن فی الحال مادورو کے قریبی اتحادیوں کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دے رہا ہے، اور توجہ وینزویلا کے زوال پذیر تیل کے شعبے کی بحالی پر مرکوز ہے۔
دوسری جانب وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو، جو اکتوبر میں نوبل امن انعام وصول کرنے کے لیے خفیہ طور پر ملک سے باہر گئی تھیں، واپسی کی خواہشمند ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ آزادانہ انتخابات میں اپوزیشن آسانی سے کامیاب ہو سکتی ہے۔ تاہم وہ ٹرمپ کو ناراض نہ کرنے میں بھی محتاط دکھائی دیتی ہیں اور وینزویلا کو امریکا کا بڑا اتحادی اور خطے کا توانائی مرکز بنانے کے خیال کی حمایت کرتی ہیں۔
امریکا نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا کے اعلیٰ حکام تعاون نہ کرنے کی صورت میں مادورو جیسا انجام دیکھ سکتے ہیں، جب کہ وزیرِ داخلہ دیوسدادو کابیو اور دیگر شخصیات امریکی کڑی نگرانی میں ہیں۔






