الزامات پہلی بار اس وقت منظر عام پر آئے جب رام مندر ٹرسٹ کی اکاؤنٹنگ ٹیم کے سابق سپروائزر مہی پال سنگھ نے مالی بے ضابطگیوں کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھی الزام عائد کیا کہ مندر کے عطیات میں سے لاکھوں روپے غائب ہیں۔
بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد اتر پردیش حکومت نے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی، جس نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی ہے۔ اگرچہ رپورٹ کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم پولیس نے مقدمہ درج کر کے کم از کم آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں عطیات اور قیمتی نذرانوں کی گنتی سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔
دریں اثنا کئی عقیدت مند بھی سامنے آئے ہیں اور انہوں نے اپنے عطیہ کیے گئے سونے کے زیورات، چاندی کی اینٹوں اور دیگر قیمتی اشیا کے بارے میں معلومات کا مطالبہ کیا ہے۔
اس تنازعے کے بعد رام مندر ٹرسٹ کے طویل عرصے سے جنرل سیکریٹری چمپت رائے سمیت کئی اہم ٹرسٹیوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ایودھیا کے رہائشی اور رام مندر کے عقیدت مند راجیش کمار نے کہا کہ انہیں ٹرسٹ انتظامیہ نے دھوکہ دیا ہے اور ان کے مذہبی اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔
مزید پڑھیں: شیخ حسینہ نے رواں سال اپنے وطن واپس آنے کا اعلان کر دیا
بابری مسجد کے انہدام میں شریک رہنے والے سنتوش دوبے نے بھی مبینہ بدعنوانی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
اپوزیشن رہنما اکھلیش یادو نے ریاستی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ صرف نچلے درجے کے ملازمین کو گرفتار کر رہی ہے جبکہ اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تحقیقات میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ رام مندر طویل عرصے سے بی جے پی کی سیاست کا اہم مرکز رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذہبی رہنما بھی اس معاملے پر کھل کر بولتے رہے تو آئندہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں اس کے سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔






