عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہیلیم کنسلٹنگ فرم کورن بلوتھ ہیلیم کنسلٹنگ کے صدر فل کورن بلوتھ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بحران شروع ہونے کے بعد سے ہیلیم کی اسپاٹ قیمتیں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں، کیونکہ خریدار سپلائی محفوظ بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔
قطر کی سرکاری توانائی کمپنی قطر انرجی، جو دنیا کی دوسری بڑی ایل این جی برآمد کنندہ ہے، نے گزشتہ ہفتے اپنی سالانہ 77 ملین ٹن صلاحیت کی تنصیب پر پیداوار روکنے کا اعلان کیا تھا اور جاری تنازع کے باعث ایل این جی کی ترسیل پر فورس میجر بھی نافذ کر دیا تھا۔
چونکہ ہیلیم قدرتی گیس کی پروسیسنگ کے دوران ضمنی پیداوار کے طور پر حاصل کیا جاتا ہے، اس لیے ایل این جی کی پیداوار میں کسی بھی رکاوٹ کا براہِ راست اثر ہیلیم کی عالمی سپلائی پر پڑتا ہے۔
قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے گزشتہ ہفتے فنانشل ٹائمز کو بتایا تھا کہ اگر تنازع جلد ختم بھی ہو جائے تو سپلائی کو معمول پر آنے میں ہفتوں سے لے کر مہینوں تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق قطر ہیلیم کی عالمی سپلائی میں بڑا حصہ رکھتا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق قطر نے 2025 میں تقریباً 63 ملین مکعب میٹر ہیلیم پیدا کیا، جب کہ دنیا بھر میں مجموعی پیداوار تقریباً 190 ملین مکعب میٹر رہی، یعنی قطر کا حصہ عالمی سپلائی کا تقریباً ایک تہائی بنتا ہے۔ اس طرح قطر امریکاکے بعد ہیلیم پیدا کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔
مارکیٹ ریسرچ کمپنی انڈیکس باکس کے چیف ایگزیکٹو الیگزینڈر رومانینکو کے مطابق اگر سپلائی میں خلل برقرار رہا تو عالمی مارکیٹ ہر ماہ تقریباً 5.2 ملین مکعب میٹر ہیلیم سے محروم ہو سکتی ہے۔
یہ خلل ایسی مارکیٹ میں پیدا ہوا ہے جہاں اضافی پیداواری صلاحیت بہت محدود ہے اور ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی کم ہے، جس کے باعث خریداروں کے پاس قلیل مدت میں متبادل ذرائع تقریباً موجود نہیں۔
جاپان کی بڑی ہیلیم فراہم کرنے والی کمپنی ایوتانی کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک سیمی کنڈکٹر بنانے والی کمپنیوں سمیت اپنے صارفین کو مستحکم سپلائی برقرار رکھی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ امریکا سے بھی ہیلیم حاصل کرتی ہے اور جاپان اور امریکا دونوں میں ذخائر رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہیلیم کی مارکیٹ دیگر اشیائے صرف کی منڈیوں سے مختلف انداز میں کام کرتی ہے۔ زیادہ تر سپلائی شفاف اسپاٹ مارکیٹ کے بجائے طویل مدتی معاہدوں کے ذریعے فروخت کی جاتی ہے، اس لیے سپلائی میں کمی کے باوجود قیمتوں کے اثرات آہستہ آہستہ سامنے آتے ہیں۔
مارکیٹ ریسرچ فرم اےکیپ انرجی کے چیف ایگزیکٹو انیش کپاڈیہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی اشاروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسپاٹ قیمتوں میں پہلے ہی تقریباً 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق اگر سپلائی میں خلل برقرار رہا تو قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اور ممکن ہے کہ ماضی کی طرح ایک ہزار مکعب فٹ ہیلیم کی قیمت 2 ہزار ڈالر سے بھی تجاوز کر جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ کے پہلے چھ دنوں میں امریکا نے 11 ارب ڈالرز سے زائد خرچ کیے: رپورٹ
الیگزینڈر رومانینکو کے مطابق اگر سپلائی میں رکاوٹ 30 دن تک برقرار رہتی ہے تو ہیلیم کی قیمتوں میں 10 سے 20 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جب کہ 60 سے 90 دن کی بندش کی صورت میں قیمتیں 25 سے 50 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں، خاص طور پر ان خریداروں کے لیے جن کے پاس طویل مدتی سپلائی معاہدے موجود نہیں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی مزید محدود ہو گئی تو فراہم کرنے والی کمپنیاں اہم شعبوں کو ترجیح دیں گی۔ فل کورن بلوتھ کے مطابق طبی ایم آر آئی سسٹمز اور خلائی راکٹوں جیسے اہم شعبوں کو ممکنہ طور پر اپنی ضروریات کا مکمل ہیلیم فراہم کیا جائے گا، جب کہ سیمی کنڈکٹر صنعت کو تقریباً 95 فیصد سپلائی مل سکتی ہے۔
اس کے برعکس کم ترجیحی استعمال، جیسے ویلڈنگ، غوطہ خوری کے آلات اور پارٹی غباروں کی تیاری، کو ممکنہ طور پر سپلائی میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔





