اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ان کے کنٹرول میں ہوگی اور اسے امریکا اور وینزویلا کے عوام کی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے وزیرِ توانائی کو ہدایت دی کہ اس منصوبے پر فوری کام شروع کیا جائے اور تیل کو امریکی بندرگاہوں تک پہنچایا جائے۔

اس سے قبل این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وینزویلا کو دوبارہ ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بنانا امریکا کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم رکھنے میں مدد ملے گی۔

خیال رہے کہ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وینزویلا کی سابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھایا، جب کہ سابق صدر نکولس مادورو کو منشیات اسمگلنگ اور اسلحہ سے متعلق الزامات کا سامنا کرنے کے لیے امریکا منتقل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا کی تیل کی صنعت کو مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی اور اس عمل میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وینزویلا کے ملٹری آپریشن میں بہت سے فوجی مارے گئے، ٹرمپ

واضح رہے کہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ثابت شدہ ذخائر موجود ہیں، جن کی مالیت تقریباً 303 ارب بیرل بتائی جاتی ہے، تاہم ملک میں تیل کی پیداوار گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل زوال کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق وینزویلا کا تیل بھاری نوعیت کا ہے، جسے صاف کرنا مہنگا اور مشکل عمل ہے۔

امریکی تیل کمپنی شیورون وینزویلا میں کام کرنے والی واحد بڑی امریکی کمپنی ہے، جب کہ کونوکو فلپس اور ایکسون موبل نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں، تاہم کسی فوری سرمایہ کاری کا فیصلہ قبل از وقت ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وینزویلا نے ماضی میں امریکی تیل "قبضے میں لے لیا تھا"، تاہم ماہرین کے مطابق حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ وینزویلا نے 1976 میں اپنی تیل کی صنعت قومی تحویل میں لی تھی اور غیر ملکی کمپنیاں لائسنس کے تحت کام کر رہی تھیں۔