سریرام کرشنن نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ سفر میری زندگی کا ایک بڑا اعزاز رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے اپنے عہدے سے علیحدگی کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی مصنوعی ذہانت سے متعلق ان بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں کردار ادا کرتے رہیں گے جن کا امریکہ کو سامنا ہے۔

سریرام کرشنن ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مصنوعی ذہانت میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت کے لیے قومی سطح کا ضابطہ جاتی فریم ورک تیار کرنے کی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ ان کی رخصتی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی حکومت کے مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں میں حصص حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس تصور میں خاصی دلچسپی پائی جاتی ہے کیونکہ اس سے مصنوعی ذہانت کی صنعت اور امریکی عوام کے درمیان شراکت داری کی ایک نئی شکل پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ آئندہ ہفتے مصنوعی ذہانت کی صنعت کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ مصنوعی ذہانت کے فروغ کی حامی ہے، تاہم قومی سلامتی اور سیکیورٹی سے متعلق خدشات اس پالیسی کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ انہی خدشات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ اور اے آئی کمپنی اینتھروپک کے درمیان کئی ماہ تک اختلافات برقرار رہے۔

رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے رواں سال کے آغاز میں اینتھروپک کو بلیک لسٹ کر دیا تھا، کیونکہ کمپنی نے امریکی فوج کو اپنے اے آئی ماڈلز گھریلو نگرانی اور مکمل خودکار ہتھیاروں کے نظام میں استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

تاہم، اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں کمی دیکھی گئی ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے وفاقی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں سے درخواست کریں کہ وہ اپنے جدید ترین ماڈلز عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل رضاکارانہ طور پر حکومتی سائبر سیکیورٹی جانچ کے لیے پیش کریں۔

ادھر صدر ٹرمپ کے قریبی بعض حلقے خبردار کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کے لیے درکار بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر سیاسی اور عوامی ردعمل کا سبب بن سکتی ہے۔

فروری میں کانگریس سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود بجلی گھر قائم کریں۔ بعد ازاں متعدد ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہوں نے بجلی کی پیداوار میں اضافے اور توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات پر اتفاق کیا تھا۔