اسرائیلی چینل 12 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو ایران پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی حملوں کے بارے میں آخری لمحے میں اطلاع دی گئی تھی۔

ٹرمپ نے بتایا کہ گزشتہ رات فون پر نیتن یاہو سے گفتگو کے دوران انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کا جواب نہ دیں۔

رپورٹ کے مطابق اس گفتگو کا فوری طور پر کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا، تاہم ٹرمپ کے معاونین کا کہنا تھا کہ انہیں یہ تاثر ملا کہ امریکی صدر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیلی ردعمل کو چند روز کے لیے مؤخر کروانے میں کامیاب رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی رات نیتن یاہو نے اعلیٰ سکیورٹی حکام سے مشاورت کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو آگاہ کیا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اسرائیل نے حملوں سے متعلق امریکا کو اس وقت مطلع کیا جب میزائل ایران کی جانب داغے جا چکے تھے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ حملوں کی شدت کو محدود کروانے میں کامیاب رہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں شامل خطے کے پانچ ممالک نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ نیتن یاہو پر دباؤ ڈالیں تاکہ حملے روکے جا سکیں اور ممکنہ معاہدے کی جانب پیش رفت جاری رہے۔

ٹرمپ کے مطابق اسی روز ایرانی حکام نے بھی امریکا سے رابطہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ مزید حملے نہیں کریں گے، ساتھ ہی اسرائیل سے بھی کارروائیاں روکنے کی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انہوں نے دوبارہ نیتن یاہو سے بات کی اور انہیں مزید حملے روکنے پر آمادہ کیا۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے اور ایران اس پر دستخط کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔