امریکی ویب سائٹ ایکزیوس کے مطابق جے ڈی وینس غزہ جنگ کے آغاز سے ہی نیتن یاہو کی بعض پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی تنقید میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وینس نے ایران سے متعلق امریکی سفارتی کوششوں اور مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت سامنے آئی تھی۔

نیتن یاہو اس معاہدے کے مخالف تھے، تاہم انہوں نے اس کی عوامی سطح پر مخالفت نہیں کی اور امید رکھتے تھے کہ معاہدہ خود ہی ناکام ہو جائے گا، جو بعد ازاں چند ہفتوں میں ختم ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کئی ماہ سے پس منظر میں موجود تھے۔ نیتن یاہو، وینس کی اسرائیلی حکومت پر عوامی تنقید سے ناخوش تھے، جب کہ وینس کا مؤقف تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم کے قریبی حلقے اور ان کے حامی میڈیا ان کے خلاف سیاسی مہم چلا رہے ہیں۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے ملاقات کو 'صاف گو اور کھلی گفتگو' قرار دیا، جب کہ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق بات چیت 'براہِ راست' اور تعمیری انداز میں ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو بھی کشیدہ رہی تھی، جس میں وینس نے نیتن یاہو کی ایران سے متعلق بعض پیش گوئیوں، خصوصاً حکومت مخالف عوامی تحریک کے امکانات، پر سوال اٹھائے تھے۔

ایکزیوس کے مطابق اپریل میں جنگ بندی کے بعد وینس ایران کے ساتھ سفارت کاری کے سب سے نمایاں حامی بن کر سامنے آئے۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ امریکا کو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہیے، لیکن اس مقصد کے لیے طویل اور کھلی فوجی مہم میں نہیں الجھنا چاہیے۔

جون میں وینس نے اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو اپنے سب سے طاقتور اتحادی امریکا کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل بنانے کی اجازت نہیں دی: فنانشل ٹائمز

بعد ازاں جولائی میں ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر امریکا کو سفارت کاری سے دور لے جانے اور جنگ کو طول دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی پوڈکاسٹ میں وینس نے مرحوم جیفری ایپسٹین کے اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حلقوں سے مبینہ روابط کا دعویٰ کیا، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق حالیہ ملاقات تصادم پر مبنی نہیں تھی بلکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ برقرار رکھنے اور مستقبل میں تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم موقع سمجھی جا رہی ہے۔