ایران کے آئین میں رہبر اعلیٰ کا عہدہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی کی قیادت میں تخلیق کیا گیا تھا اور وہ تین دسمبر 1979 کو ملک کے پہلے رہبرِ اعلیٰ مقرر ہوئے تھے۔
آیت اللہ خمینی ساڑھے نو برس تک اس عہدے پر فائز رہے اور 1989 میں ان کی وفات کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو ملک کا دوسرا رہبرِ اعلیٰ چنا گیا اور وہ 28 فروری 2026 کو اپنی شہادت تک ساڑھے 36 برس یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔
ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق، رہبرِ اعلیٰ کی موت سے لے کر مجلسِ رہبری کی جانب سے نئے قائد کے متعارف کروائے جانے تک، تین رکنی کونسل عارضی طور پر قائدانہ فرائض سنبھالتی ہے۔
اس کونسل کے ارکان میں ملک کے صدر، عدلیہ کے سربراہ، اور شوریٰ نگہبان کے ایک فقیہ ہوتے ہیں جنھیں مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ نامی ادارے کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔
تاہم، اس تین رکنی کونسل کو مکمل اختیار حاصل نہیں ہوتا اور نیچے دی گئی صورتوں میں اس کے فیصلوں کو صرف ’مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ کے تین چوتھائی اراکین کی منظوری سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔
نظام کی عمومی پالیسیوں کا تعین 2. رائے شماری کے حکم نامے کا اجراء 3. جنگ یا امن کا اعلان 4. صدر کا مواخذہ 5. چیف آف جوائنٹ اسٹاف، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف، یا اعلیٰ فوجی اور قانون نافذ کرنے والے کمانڈروں کی برطرفی اور تقرری۔
اگر رہبرِ اعلیٰ بیماری یا حادثے کی وجہ سے عارضی طور پر اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو تو بھی یہ کونسل اسی حیثیت سے اپنے فرائض سنبھالتی ہے۔
ایران اس وقت دنیا میں اہل تشیع آبادی کی اکثریت والا سب سے طاقتور ملک ہے اور ملک کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر صرف ایک آیت اللہ بن سکتا ہے، جو اہل تشیع کا مذہبی رہنما ہوتا ہے۔
تاہم جب علی خامنہ ای کا انتخاب ہوا تھا تو وہ آیت اللہ نہیں تھے۔ اس سلسلے میں قانون بدلے گئے، تھے تاکہ وہ یہ عہدہ سنبھال سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: آیت اللہ سید علی خامنہ ای کون تھے؟
ایران میں 88 علماء کا ایک ادارہ ہے جسے مجلسِ رہبری کہا جاتا ہے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کرتا ہے۔ ہر آٹھ سال بعد ایران کے لاکھوں شہری اس ادارے کے اراکین کو منتخب کرتے ہیں۔ آخری بار ایسا 2016 میں ہوا تھا۔
لیکن مجلسِ رہبری کے کسی امیدوار کو پہلے شوریٰ نگہبان نامی کمیٹی کی منظوری درکار ہوتی ہے جس کے اراکین کا انتخاب بالواسطہ یا بلاواسطہ موجودہ رہبر اعلیٰ کرتے ہیں۔
یہ ظاہر ہے کہ سپریم لیڈر کا اثر و رسوخ شوریٰ نگہبان اور مجلسِ رہبری پر بھی ہوتا ہے۔ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان کمیٹیوں میں قدامت پسند اکثریت کو یقینی بنایا تھا۔
اس وقت اس اسمبلی کے چیئرمین محمد علی موحیدی کرمانی ہیں جبکہ ہاشم حسینی بوشہری اور علی رضا عرفی نائب چیئرمین ہیں۔
ایرانی آئین کے مطابق مجلسِ رہبری کا اجلاس اس وقت درست ہے جب اس کے کم از کم دو تہائی ارکان (59 افراد) موجود ہوں۔ نئے رہنما کے انتخاب کے لیے اجلاس میں موجود افراد کی دو تہائی اکثریت کے ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صرف 59 ارکان موجود ہوں تو نئے قائد کے انتخاب کے لیے 40 ووٹ کافی ہیں۔
ممکنہ امیدواروں کا جائزہ کمیشن
مجلسِ رہبری کے ایک کمیشن کا کام ایسے افراد کی اہلیت کا جائزہ لینا ہے جنھیں رہبرِ اعلیٰ کے عہدے کے لیے اہل سمجھا جا سکتا ہے۔
اس کمیشن کے اہم ارکان میں شوری نگہبان فقہی کے رکن احمد حسینی خراسانی، شوری نگہبان کے ارکان علی رضا عرفی اور محمد رضا مدرسی یزدی، مجلس رہبری کے پہلے نائب صدر ہاشم حسینی بوشہری، یورپ میں آیت اللہ خامنہ ای کے سابق نمائندے محسن محمدی اراکی، اصفہان میں نمازِ جمعہ کے اما ابوالحسن مہدوی، تین مرتبہ مجلسِ رہبری کے رکن اور اردبیل میں نمازِ جمعہ کے امام حسن آملی شامل ہیں۔
انتخاب میں کتنا وقت لگتا ہے؟
نئے رہبرِ معظم کے انتخاب کے لیے کوئی وقت مقررنہیں ہے اور چونکہ تین رکنی عبوری کونسل کی تشکیل ہو چکی ہے تو کم از کم کاغذات میں، اقتدار کا خلا نہیں ہوگا۔
تاہم اسلامی جمہوریہ کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد کے واقعات کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ مجلسِ رہبری کے ارکان نے ان حالات میں جانشین کے انتخاب میں تیزی دکھائی۔
آیت اللہ خمینی کا انتقال چار جون 1989 کی شب 10 بجے کے بعد ہوا تھا اور مجلسِ رہبری نے اگلی صبح اجلاس بلا کر چند گھنٹوں میں جانشینی کا فیصلہ کر لیا تھا۔






