عدالت کے مطابق روڈریگیز عارضی طور پر صدر کے عہدے سے متعلق تمام اختیارات، فرائض اور ذمہ داریاں سنبھالیں گی تاکہ ریاستی امور کا تسلسل اور قومی دفاع یقینی بنایا جا سکے۔

عدالت نے صدر نکولس مادورو کو مستقل طور پر عہدے سے غیر حاضر قرار دینے سے گریز کیا۔ ججوں کا کہنا تھا کہ ایسا فیصلہ کرنے کی صورت میں آئینی طور پر 30 دن کے اندر نئے انتخابات کرانا لازم ہو جاتا ہے۔

ادھر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتہ کی شام امریکہ کے ایک فوجی اڈے پر منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد ازاں انہیں نیویارک لے جایا گیا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی حکومت کے طیارے سے اترتے ہی ایف بی آئی کے اہلکاروں نے مادورو کو تحویل میں لے لیا، جس کے بعد انہیں امریکہ کی ایک جیل منتقل کر دیا گیا۔

بعد ازاں مادورو کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہیٹن پہنچایا گیا، جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ 63 سالہ رہنما کو پہلے امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے دفاتر لے جایا گیا اور پھر بروکلین میں واقع میٹروپولیٹن حراستی مرکز منتقل کیا گیا، جو ایک وفاقی حراستی سہولت ہے۔

مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک میں کسی نامعلوم تاریخ پر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ان پر نارکوٹیررازم، امریکہ میں بڑی مقدار میں کوکین اسمگل کرنے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اس صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کے روز ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی، جس میں وینزویلا سے متعلق امریکی کارروائی پر غور کیا جائے گا۔ یہ اجلاس وینزویلا کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایک فوجی آپریشن کے ذریعے نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کی قیادت کے خلاف بڑی کارروائی کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ وینزویلا کو چلائے گا اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھائے گا۔ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ وینزویلا میں امریکی فوج تعینات کی جا سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ کی جانب سے وینزویلا اور اس کی تیل پر انحصار کرنے والی معیشت پر فوجی اور معاشی دباؤ کئی ماہ سے بتدریج بڑھتا چلا آ رہا تھا۔ دسمبر میں بھی صدر ٹرمپ یہ کہہ چکے تھے کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑ دینا دانشمندی ہو گی اور ان کے دن گنے جا چکے ہیں۔