لیک لوزن سمٹ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج ہونے والی پیش رفت صرف ایک آغاز ہے، اصل مقصد ایک ایسے ماحول کا قیام ہے جہاں خطے کے ممالک امن، ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھ سکیں۔
شیخ محمد بن عبدالرحمان نے کہا کہ موجودہ مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی سلامتی کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر امن کے قیام اور تنازعات کے حل کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا اور مذاکراتی عمل کو کامیابی تک پہنچانے کے لیے اپنی حمایت اور شراکت داری برقرار رکھے گا۔
قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سفارتی کوششوں کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہی پائیدار امن کی بنیاد ہے، قطر ہمیشہ مذاکرات، رابطوں اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے اختلافات کم کرنے کی کوششوں کا حامی رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امن قائم ہونے سے نہ صرف سیاسی استحکام آئے گا بلکہ معاشی سرگرمیوں، تجارت اور ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، امن و استحکام کا فائدہ صرف ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوتے ہیں۔
شیخ محمد بن عبدالرحمان نے مذاکراتی عمل میں کردار ادا کرنے والے تمام فریقین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی پیچیدہ معاملات کو حل کیا جاسکتا ہے۔
قطری وزیراعظم نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستان نے امن کے فروغ اور سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مزید پڑھیں: سوئٹزر لینڈ میں مذاکراتی وفد کا کام مکمل ہوگیا،کنیکی سطح پر مشاورت کا عمل جاری رہے گا: ایران
واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن سٹاک میں ہونے والی اہم سفارتی سرگرمیوں میں ایران اور امریکا کے وفود نے پاکستان اور قطر کی سہولت کاری میں مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ تلاش کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق قطر کا کردار اس عمل میں اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ دوحہ ماضی میں بھی مختلف عالمی اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے ثالثی اور مذاکراتی سہولت کاری میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔
یاد کہ اگر مذاکراتی عمل مثبت انداز میں آگے بڑھتا ہے تو اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں کمی، اقتصادی تعاون میں اضافہ اور عالمی سطح پر استحکام کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔






