ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو جاری ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں اپنی ذمہ داریوں اور جنگ بندی کے تقاضوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، لہٰذا آج کے مذاکرات میں یہی مسئلہ سب سے اہم موضوع ہوگا۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ایران کے منجمد یا محدود رسائی والے مالی اثاثوں کی دستیابی اور ایرانی تیل کی فروخت کے لیے ضروری لائسنسوں کے اجرا سے متعلق معاملات بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ کسی حتمی اور وسیع معاہدے کی جانب پیش رفت اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک لبنان میں جنگ مکمل طور پر بند نہیں ہو جاتی۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ابتدائی مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، بالخصوص لبنان میں جنگ بندی، سے متعلق ہے اور اس پر عملدرآمد کے بغیر حتمی مذاکراتی مرحلے میں داخل ہونا ممکن نہیں۔
یہ مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد پہلا باضابطہ دور ہیں۔ یادداشت کا مقصد جنگ بندی کو 60 روز تک برقرار رکھنا اور جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور دیگر اہم معاملات پر جامع مذاکرات کا آغاز کرنا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں جوہری پروگرام اور لبنان میں جنگ بندی دو اہم ترین موضوعات ہوں گے اور انہیں امید ہے کہ ان معاملات پر پیش رفت حاصل ہوگی۔
امریکی وفد میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں اور مختلف تکنیکی امور پر بات چیت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جب کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی وفد میں شامل ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں اور اس حوالے سے تحریری یقین دہانی دینے کے لیے بھی تیار ہے، تاہم یورینیم افزودگی کا حق ترک نہیں کرے گا۔
ادھر آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔ ایران نے اسرائیلی کارروائیوں اور امریکا کی مبینہ خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان کیا تھا۔
مزید پڑھیں: امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت؛ قطر میں منجمد 6 ارب ڈالر ایران کو واپس ملیں گے، ایرانی صدر
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے اور گزشتہ روز 55 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جن کے ذریعے 17 ملین بیرل سے زائد تیل عالمی منڈیوں کی جانب روانہ ہوا۔
دوسری جانب جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں بھی جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایک اور فوجی ہلاک ہو گیا ہے، جس کے بعد ایران۔امریکا مفاہمت کے بعد ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسے سیاسی قیادت کی جانب سے جنگ بندی پر عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاہم سکیورٹی زون کے اندر دفاعی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
حزب اللہ نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان میں پیش قدمی کی کوشش کی، جب کہ لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔





