گفتگو کے دوران شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام فریقین کو اپنے وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کی پابندی، بین الاقوامی قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور سمندری راستوں کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے بالخصوص آبنائے ہرمز میں عالمی بحری آمد و رفت کی آزادی اور بلا رکاوٹ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
عبدالله بن زايد يتلقى اتصالا هاتفيا من معالي عباس عراقجي، وزير خارجية الجمهورية الإسلامية الإيرانية جرى خلاله بحث التطورات الإقليمية، وذلك في أعقاب التوصل إلى اتفاق حول مذكرة التفاهم بين الولايات المتحدة الأمريكية وإيران وتوقيع البلدين عليها، وشدد سموه على أهمية الالتزام الكامل… pic.twitter.com/8jetiba0MG
— OFM (@OFMUAE) June 26, 2026
اماراتی وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات مثبت نتائج کی جانب بڑھیں گے اور ان کے ذریعے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے راہ ہموار ہوگی۔
شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے مزید کہا کہ سنجیدہ سفارت کاری، تعمیری مکالمہ اور ذمہ دارانہ مذاکرات ہی علاقائی اور عالمی تنازعات کے پائیدار حل کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔






