چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال نے نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کو متاثر کیا ہے، موجودہ حالات انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور کسی بھی قسم کی غیر ذمہ دارانہ کارروائی خطے کو مزید بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ ماضی کے تجربات اور زمینی حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ فوجی طاقت اور مسلح کارروائیاں دیرپا حل فراہم نہیں کرتیں بلکہ اکثر تنازعات کو مزید پیچیدہ اور سنگین بنا دیتی ہیں،  طاقت کے استعمال سے مسائل کے حل کے بجائے نئے چیلنجز جنم لیتے ہیں جن کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوتے ہیں۔

لن جیان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اس وقت ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں ہیں، لہٰذا تمام فریقین کو ایسے اقدامات سے اجتناب کرنا چاہیے جو سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہوں یا کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بنیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام بین الاقوامی اصولوں کے مطابق یقینی بنایا جانا چاہیے،  کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت یا طاقت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا کے حملوں کے بعد ایران کا جوابی کارروائیوں کا دعویٰ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

چینی ترجمان نے کہا کہ اختلافات اور تنازعات کا پائیدار حل صرف سیاسی مذاکرات، سفارتی رابطوں اور باہمی احترام پر مبنی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیز بیانات اور تصادم کو ہوا دینے والے اقدامات سے گریز کریں اور مسائل کے حل کے لیے سیاسی ذرائع کو ترجیح دیں۔

بیجنگ نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرے اور ایسے اقدامات کی حمایت کرے جو کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں۔

چین نے اپنے بیان کے اختتام پر اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق مشترکہ کوششوں کے ذریعے حالات کو معمول پر لانے، خطے میں امن کی فضا بحال کرنے اور جامع و دیرپا جنگ بندی کے قیام کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کریں گے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو مزید تباہ کن بحران سے بچایا جا سکے۔