سوشل اکاؤنٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت نے معاہدے کی تمام شقوں اور شرائط پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی ہے، جس کے تحت قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کی بنیاد پر معاملات کو آگے بڑھانے کی حمایت کی ہے، تاہم اگر کسی فریق کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی، غیر سنجیدہ رویہ یا حد سے تجاوز کرنے کی کوشش کی گئی تو تہران خاموش نہیں بیٹھے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی مخالف قوتوں کو اپنی پالیسیوں کے نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اگر دوبارہ ایسے اقدامات دہرائے گئے تو اس بار ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور مؤثر ہوگا۔

محمد باقر قالیباف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، معاہدوں کی کامیابی کا انحصار تمام فریقوں کی جانب سے ذمہ داریوں کی پاسداری پر ہوتا ہے اور اگر کسی جانب سے وعدہ خلافی کی گئی تو اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی اسی فریق پر عائد ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قیادت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ملک کے مفادات کے خلاف کسی بھی اقدام کا مناسب اور بھرپور جواب دیا جائے گا،ایران خطے میں استحکام اور امن کا خواہاں ہے، لیکن قومی وقار اور سلامتی کے معاملات پر کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران معاہدے پر میرا مؤقف مختلف، قومی مفاد میں منظوری دی: سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے بیان کو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی معاہدوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے

واضح رہے کہ  تہران نے اپنے مؤقف کو ایک بار پھر دوٹوک انداز میں دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔