انڈین میڈیا کے مطابق آگ تین منزلہ تجارتی عمارت کے درمیانی حصے سے بھڑکی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت میں پھیل گئی۔

حکام کے مطابق عمارت کے گراؤنڈ فلور پر پالتو جانوروں کی دکان اور ویٹرنری کلینک قائم تھا، جب کہ بالائی منزلوں پر ایک کوچنگ سینٹر تھا جہاں طلبہ کو گیمنگ اور اینیمیشن سے متعلق سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی تربیت دی جاتی تھی۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، تاہم واقعے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔

کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کے مردہ خانے کے باہر لواحقین نے اپنے پیاروں کی آخری فون کالز کو یاد کرتے ہوئے رقت آمیز مناظر پیش کیے۔

23 سالہ سکھمنی سنگھ، جو گیم ڈیزائننگ کا طالب علم تھا، اس نے دن  تقریباً 2 بجے اپنے والد پربھجوت سنگھ کو فون کر کے مدد کی اپیل کی۔ والد کے مطابق بیٹے نے روتے ہوئے کہا کہ  پاپا، مجھے بچا لیں، یہاں سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔

متاثرہ خاندان کے ایک رشتہ دار وشوناتھ سرکار نے بتایا کہ 27 سالہ جوئنیل نے بھی دن 2 بجے اپنی خالہ کو فون کر کے کہا کہ ہم پھنس گئے ہیں، خدا کے لیے ہمیں کسی طرح بچا لیں۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ اگر امدادی کارروائی کے دوران دیوار پہلے توڑ دی جاتی تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

تیسرے مقتول کی شناخت سورج سنگھ کے نام سے ہوئی، جو اسی کوچنگ سینٹر میں ملازم تھا اور جوئنیل کے ساتھ رہتا تھا۔

حکام کے مطابق آتشزدگی میں ہلاک ہونے والوں میں جوئنیل، شاہجان، محمد عبدل، سنیام، ساگر، نیلیش، آدتیہ، انامیکا، محمد عمار، سورج شاہ، بھاویشیا، سکھمنی، جیوتی، سومالیکا اور اننیا شامل ہیں۔

کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر سونیا نتیانند کے مطابق 24 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جن میں سے 15 کو مردہ قرار دیا گیا، جب کہ ابتدائی طبی معائنے سے معلوم ہوا ہے کہ تمام افراد کی موت جلنے سے نہیں بلکہ دم گھٹنے کے باعث ہوئی۔