امتحان سے چند گھنٹے قبل مبینہ طور پر ایک پرچہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور واٹس ایپ گروپس پر گردش کرنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی ایک نامعلوم پیغام بھی سامنے آیا جس میں دھمکی دی گئی کہ اگر امتحانی نظام میں اصلاحات نہ کی گئیں تو مزید پرچے بھی لیک کیے جائیں گے۔

یہ واقعہ ایک ایسے عالمی امتحانی نظام کے لیے بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے جس پر لاکھوں طلبہ اعتماد کرتے ہیں۔ پاکستان میں صورتحال اس لیے زیادہ حساس ہے کہ یہاں ہر سال ایک بڑی تعداد میں طلبہ او اور اے لیول کے امتحانات دیتے ہیں، جن کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے بھی زائد بتائی جاتی ہے۔

پاکستان میں کیمبرج نظام کو عام طور پر ایک بین الاقوامی معیار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ والدین اور طلبہ اس امید کے ساتھ اس نظام کا انتخاب کرتے ہیں کہ یہ انہیں عالمی معیار کی تعلیم اور شفاف جانچ کا موقع فراہم کرے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف او لیول کے آٹھ مضامین کی فیس ہی کئی لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے، جب کہ ٹیوشن فیس، کتابیں اور دیگر تعلیمی اخراجات شامل کیے جائیں تو ایک طالبعلم پر مجموعی لاگت دس سے پندرہ لاکھ روپے تک جا سکتی ہے۔ یہ اخراجات متوسط طبقے کے لیے ایک بڑی قربانی کے مترادف ہوتے ہیں۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق کیمبرج نظام دنیا بھر سے اربوں روپے کی آمدن حاصل کرتا ہے، جس کا ایک بڑا حصہ برطانیہ منتقل ہوتا ہے۔ فیسوں کی ادائیگی چونکہ بین الاقوامی کرنسی میں ہوتی ہے، اس لیے کرنسی کی قدر میں تبدیلی بھی اس ادارے کی آمدنی پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔

پاکستان سے ہی سالانہ مبینہ طور پر اربوں روپے کی خطیر رقم اس نظام کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل ہوتی ہے، جو اسے ایک انتہائی منافع بخش تعلیمی ماڈل بھی بناتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں یہ پہلا موقع نہیں کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے یا سیکیورٹی بریچ کے واقعات سامنے آئے ہوں۔

مختلف سالوں میں ریاضی اور کمپیوٹر سائنس جیسے اہم مضامین میں بھی اسی نوعیت کے مسائل رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کے بعد بعض اوقات امتحانات دوبارہ کرانے یا متبادل اسیسمنٹ دینے کے فیصلے کیے گئے۔

ان واقعات کے باوجود آج تک نہ تو مکمل طور پر شفاف نظام کی ضمانت دی جا سکی ہے اور نہ ہی ان لیکس کے پیچھے موجود اصل عناصر کو سامنے لایا جا سکا ہے۔

حالیہ واقعے سے متاثر ہونے والے طلبہ کی تعداد ہزاروں میں بتائی جا رہی ہے۔ ان طلبہ نے نہ صرف بھاری فیسیں ادا کیں بلکہ ایک سال سے زائد محنت بھی اس امتحان کے لیے کی تھی۔ اچانک امتحانی نظام میں خلل نے ان کے تعلیمی سفر کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔

بعض صورتوں میں طلبہ کو دوبارہ امتحان دینے یا نومبر کے سیشن کا انتظار کرنے کا کہا گیا، جس سے نہ صرف ان کے تعلیمی شیڈول بلکہ یونیورسٹی اپلیکیشنز بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: دنیا 150 سال پرانا کونسا کی بورڈ لے آؤٹ استعمال کر رہی ہے؟

اب تک مختلف سطحوں پر انکوائریاں اور تحقیقات شروع کرنے کے دعوے کیے گئے ہیں، تاہم ان کے نتائج واضح طور پر سامنے نہیں آ سکے۔ نہ تو کسی فرد یا گروہ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور نہ ہی نظامی اصلاحات کا کوئی واضح خاکہ سامنے آیا ہے۔

کیمبرج حکام کی جانب سے عمومی طور پر یہ مؤقف اپنایا جاتا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں، تاہم طلبہ اور والدین کے لیے یہ جواب اب تسلی بخش نہیں رہا۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ صرف ایک پرچہ لیک ہونا نہیں بلکہ اعتماد کا مسلسل متاثر ہونا ہے۔ وہ نظام جسے عالمی معیار اور شفافیت کی علامت سمجھا جاتا تھا، اب بار بار ہونے والے واقعات کے باعث سوالات کی زد میں ہے۔

پاکستان جیسے ممالک میں جہاں والدین اپنی جمع پونجی اور مستقبل کی امیدیں اس نظام سے جوڑتے ہیں، وہاں یہ واقعات نہ صرف مالی نقصان بلکہ ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا کر رہے ہیں۔