امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق روس کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی جنگی جہازوں، فوجی اڈوں اور طیاروں کے ممکنہ مقامات شامل ہیں۔ یہ معلومات ایران کو امریکی اہداف کو زیادہ درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی درستگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے پیچھے بیرونی انٹیلی جنس تعاون کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران نے ہزاروں ڈرونز اور درجنوں میزائل امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کی سمت داغے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے اندازوں کے مطابق ان حملوں کا دائرہ کم از کم ایک درجن ممالک تک پھیل چکا ہے، جس کے باعث پورا خطہ غیر معمولی سکیورٹی دباؤ کا شکار ہے۔
بعض حملوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
ایران کے پاس جدید فوجی سیٹلائٹ نیٹ ورک محدود ہے، اس لیے اگر روس کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر یا انٹیلی جنس ڈیٹا فراہم کیا جا رہا ہے تو یہ ایران کے لیے ایک بڑا اسٹریٹیجک فائدہ ثابت ہو سکتا ہے۔
روس نے گزشتہ برسوں میں اپنی جنگی حکمت عملی میں سیٹلائٹ اور انٹیلی جنس ڈیٹا کے استعمال کو خاصا مؤثر بنا لیا ہے، خصوصاً یوکرین جنگ کے تجربے کے بعد اس کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب روس نے ان الزامات پر اب تک کوئی واضح ردعمل نہیں دیا، جب کہ امریکی اداروں سی آئی اے اور پینٹاگون نے بھی اس معاملے پر کھل کر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
اگر روس واقعی ایران کی مدد کر رہا ہے تو کیا مشرقِ وسطیٰ کی یہ کشیدگی بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان ایک پراکسی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انٹیلی جنس تعاون اور عسکری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یہ تنازع صرف علاقائی حد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی جیوپولیٹیکل محاذ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔







