اس احتجاج کی کال سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’’کاکروچ از بیک‘‘ کی جانب سے دی گئی تھی، جس نے مختصر عرصے میں کروڑوں افراد کی توجہ حاصل کی۔ مظاہرین نے متفقہ طور پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا اور حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اس احتجاج کے بعد سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ آیا ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ محض ایک وقتی عوامی ردِعمل ہے یا مستقبل میں ایک مؤثر سیاسی تحریک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

قیادت کیا کہتی ہے؟

بی بی سی ہندی سے گفتگو کرتے ہوئے تنظیم کے ترجمان سورَو داس نے کہا کہ اگر موجودہ مطالبات پورے ہو جاتے ہیں تو آئندہ کے لائحۂ عمل کا فیصلہ اجتماعی مشاورت سے کیا جائے گا۔

ان کے مطابق یہ پلیٹ فارم ان نوجوانوں کے لیے قائم کیا گیا ہے جو خود کو موجودہ نظام سے مایوس محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنتر منتر پر لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی مہم عوامی حمایت حاصل کر رہی ہے۔

ایک اور ترجمان ابھیشیک رانکا نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے شرکا کی باقاعدہ گنتی نہیں کی، تاہم ان کے خیال میں اجتماع میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

دوسری جانب بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق احتجاج میں سینکڑوں افراد موجود تھے، جبکہ سوشل میڈیا پر شرکا کی اصل تعداد کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

تجزیہ کاروں کی رائے

سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار شرد گپتا کا کہنا ہے کہ جنتر منتر پر لوگوں کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ نوجوانوں میں نظام کے حوالے سے بے چینی اور ناراضی پائی جاتی ہے۔

تاہم ان کے مطابق اس تحریک کے پاس فی الحال کوئی واضح سیاسی حکمتِ عملی یا تجربہ کار قیادت موجود نہیں، جس کے باعث اس کے ایک بڑی قومی تحریک میں تبدیل ہونے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

شرد گپتا کے بقول نوجوانوں کے اندر موجود غصہ ضرور نمایاں ہے، لیکن جب تک اس غصے کو ایک واضح سمت اور منظم سیاسی پروگرام نہیں ملتا، یہ تحریک دیرپا اثرات مرتب نہیں کر سکے گی۔

کیا اس تحریک میں صلاحیت موجود ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سمیتا گپتا اس معاملے کو مختلف انداز سے دیکھتی ہیں۔

ان کے مطابق یہ تحریک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب معاشی مشکلات، روزگار کے مسائل اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی سیاسی مباحث کا اہم حصہ بن چکی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اس مہم کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اٹھائے گئے مسائل براہِ راست نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کی روزمرہ زندگی سے جڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ نسبتاً زیادہ عوامی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

ان کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ ایک بڑی سیاسی تحریک میں تبدیل ہوگی یا نہیں، لیکن اس میں نمایاں صلاحیت ضرور موجود ہے۔

سیاست میں آنے کا امکان؟

کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ نوجوانوں، تعلیم، آئین اور ملک کے مفادات کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ مستقبل میں باقاعدہ سیاست میں قدم رکھ سکتے ہیں تو ان کا مؤقف تھا کہ معاشرے کے بیشتر معاملات کسی نہ کسی انداز میں سیاسی نوعیت رکھتے ہیں۔

سیاسی مبصرین اس حوالے سے اروند کیجریوال اور انسدادِ بدعنوانی تحریک کی مثال دیتے ہیں، جو بعد میں ایک سیاسی جماعت کی صورت اختیار کر گئی تھی۔

تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ موجودہ قیادت سیاسی تجربے سے محروم ہے، اس لیے فی الحال اس مہم کو ایک منظم سیاسی قوت قرار دینا مشکل ہے۔

آغاز کیسے ہوا؟

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کے مطابق اس مہم کا آغاز ایک سوشل میڈیا ردِعمل سے ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بیان پر ناراضی کے اظہار کے طور پر سوال اٹھایا کہ اگر تمام ’’کاکروچ‘‘ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہوگا۔ ان کے بقول نوجوانوں کی جانب سے غیر متوقع ردِعمل سامنے آیا، جس کے بعد ایک منظم پلیٹ فارم بنانے کا خیال وجود میں آیا۔

مستقبل کیا ہوگا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی ایک عارضی احتجاجی مہم ثابت ہوگی یا مستقبل میں منظم سیاسی تحریک کی شکل اختیار کرے گی۔

تاہم ایک بات واضح ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے حالیہ احتجاج نے نوجوانوں میں موجود بے چینی، روزگار سے متعلق خدشات اور نظام سے متعلق سوالات کو ایک بار پھر قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

معروف سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو کے بقول، ’’اسے روایتی سیاسی پیمانوں سے جانچنا غلطی ہوگی۔ یہ شاید ایک مکمل تحریک نہیں، بلکہ ایک ایسا لمحہ ہے جو نوجوانوں کے جذبات اور توقعات کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘