جی سیون اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کی تعمیر نو میں سرمایہ نہیں لگائے گا۔ ایران کی فضائیہ، بحریہ تباہ ہوچکی ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے پاکستان اور قطر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور قطر دونوں نے مذاکرات کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے۔

انھوں نے جی7 اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس کا آغاز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ انھیں فرانس میں خوش آمدید کہنا ’جی7 کی تاریخ کے سب سے کامیاب اجلاسوں میں سے ایک‘ ہے۔

میری رائے میں یہ حکومت کی تبدیلی ہے، ان کے مطابق ایران کے پاس اب ’نئی قیادت‘ ہے جو ’زیادہ سمجھدار‘ اور ’کم شدت پسند‘ ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس عمل کے ذریعے حکومت کی تبدیلی حاصل ہو چکی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ ’اجلاس مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک امن معاہدے پر دستخط کے بعد منعقد ہوا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو کھولا گیا ہے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا گیا ہے۔

انھوں نے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایران معاہدے کے لیے آمادہ نہ ہوتا تو یہ بمباری کا سلسلہ جاری رہتا۔

ٹرمپ نے کہا کہ آپ حکومت کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں، کوئی یہ نہیں کہے گا لیکن میرا خیال ہے کہ یہ وہی ہے۔ ایک قیادت ختم ہو گئی، دوسری قیادت بھی ختم ہو گئی اور تیسری قیادت بھی جزوی طور پر ختم ہو رہی ہے۔۔۔ میرا خیال ہے یہ حکومت کی تبدیلی ہے۔

اس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا ہے کہ ایویان میں ہونے والے جی7 اجلاس میں یوکرین اور ایران کے امور پر اہم مذاکرات ہوئے اور جی 7 رہنماؤں نے متفقہ طور پر نو مشترکہ اعلامیے منظور کیے۔

ایمانوئل میکخواں نے کہا کہ یوکرین کے معاملے پر رہنماؤں کے درمیان اس بات پر عمومی اتفاق پایا گیا کہ یوکرین کو مزید حمایت فراہم کی جائے گی اور اس کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔‘

فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ جی7 ممالک نے اس بات سے اتفاق کیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان ’طاقت کا توازن‘ تبدیل ہو چکا ہے اور اب یوکرینی افواج ’آگے بڑھ رہی ہیں جبکہ روس پیچھے ہٹ رہا ہے‘۔

فرانس کے صدر نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یوکرین کو مزید اسلحہ فراہم کرنے کے لیے امریکی دفاعی صنعت کو متحرک کرنا اہم ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ روس کے خلاف عائد پابندیوں کو مزید سخت کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

بعد ازاں ایمانوئل میکخواں نے ایران کے تنازع کی بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، جس سے معاشی عدم استحکام کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

ان کے مطابق اس معاہدے میں آبنائے ہرمز سے بغیر رکاوٹ اور بغیر ٹول کے گزرنے کو بنیادی نکتہ قرار دیا گیا ہے اور یہ عمل فوری طور پر شروع ہو چکا ہے۔

ایمانوئل میکخواں نے مزید کہا کہ برطانیہ اور فرانس کی جانب سے سمندری تجارت کو معمول پر لانے کے لیے تیار کردہ دفاعی تعاون ایک ’موجودہ پیشکش‘ ہے اور تقریباً 20 ممالک پہلے ہی اس نوعیت کی کارروائی میں شمولیت کے لیے مکمل آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔