رپورٹس کے مطابق اگرچہ جیکب سٹیڈمین نے مطلوبہ فنڈنگ کی حتمی رقم بتانے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے منصوبوں کے لیے عموماً اربوں سویڈش کرونز کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔

بلیکالہ اس وقت 55 میگاواٹ صلاحیت کے ایسے ری ایکٹرز تیار کر رہی ہے جن میں لیڈ کولنگ ٹیکنالوجی کا جدید ورژن استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ابتدا میں 1950 کی دہائی میں روسی جوہری آبدوزوں کے لیے تیار کی گئی تھی۔

کمپنی کے مجوزہ ری ایکٹر پارک سے تقریباً 330 میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے، جو ڈیڑھ لاکھ گھروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوگی۔ منصوبے کے تحت بجلی کی پیداوار 2030 کی دہائی کے پہلے نصف میں شروع ہونے کا امکان ہے۔

نئے ری ایکٹرز کی تنصیب کے لیے سویڈش حکومت، قومی جوہری ریگولیٹری ادارے، ماحولیاتی عدالت اور یورپی یونین سے منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سویڈن کی دائیں بازو کی اعتدال پسند حکومت توانائی کے تحفظ سے متعلق خدشات اور 2045 تک بجلی کی طلب دگنی ہونے کی پیش گوئیوں کے پیش نظر ملک کے جوہری توانائی کے شعبے کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

زیادہ لاگت اور مارکیٹ کے خطرات کے باعث نجی سرمایہ کاروں کی محدود دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے ایک جامع امدادی پیکج متعارف کرایا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کم از کم 5 ہزار میگاواٹ نئی جوہری صلاحیت کی تعمیر کی حوصلہ افزائی کے لیے 440 ارب کرونز (47 ارب ڈالر) تک کے قرضے، 40 سالہ قیمت کی ضمانتیں اور جوہری فضلے کے انتظام کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

مزید برآں، حکومت ملک کی بڑی توانائی کمپنی واٹن فال کے جوہری ترقیاتی یونٹ ویڈبرگ کرافٹ میں اکثریتی حصص حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے لیے 34 ارب کرونز تک کی فنڈنگ فراہم کی جائے گی۔

دوسری جانب، حکومتی حکمت عملی کو ناقدین کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع، خصوصاً ساحلی ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، نہ صرف کم لاگت ہیں بلکہ ان کی تکمیل بھی نسبتاً کم وقت میں ممکن ہے۔

ناقدین نے حکومت کی جانب سے مستقبل میں بجلی کی طلب سے متعلق تخمینوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق توانائی کی بچت کے اقدامات کے باعث 1990 کی دہائی سے سویڈن میں بجلی کی مجموعی کھپت بڑی حد تک مستحکم رہی ہے۔

اس بحث کے باوجود حکومت کا وسیع تر منصوبہ 2045 تک تقریباً 10 نئے مکمل سائز کے جوہری ری ایکٹرز کے مساوی پیداواری صلاحیت کا اضافہ کرنا ہے تاکہ موجودہ چھ فعال تنصیبات کی معاونت کی جا سکے۔

واضح رہے کہ سویڈن کا بجلی کا نظام پہلے ہی تقریباً 98 فیصد فوسل فیول سے پاک ہے اور ملک کی توانائی کی ضروریات بنیادی طور پر پن بجلی، جوہری توانائی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کے امتزاج سے پوری کی جاتی ہیں۔