ایرانی صدر نے اپنی گفتگو کا آغاز مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال کے شعر سے کیا اور کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات منفرد، قریبی اور برادرانہ نوعیت کے حامل ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں اپنا بھائی قرار دیا اور دعوت پر اظہارِ تشکر کیا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان صرف ایران کا ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ایک بھائی اور قریبی دوست ہے، جب کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر استوار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران یک جان، دو قالب ہیں اور دونوں ممالک مشترکہ مستقبل اور منزل کے شراکت دار ہیں۔ ان کے بقول دونوں ممالک کو مل کر ایک پُرامن، خوشحال اور مستحکم مستقبل کی تعمیر کے لیے کام کرنا ہوگا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے اور پاکستان نے امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
براہِ راست:وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی گفتگو https://t.co/IHVSg1oshr
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) June 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان کی مؤثر سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئے، جس میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔
مسعود پزشکیان نے بتایا کہ اپنے دورۂ پاکستان کے دوران انہوں نے صدر مملکت، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن، سلامتی اور پائیدار ترقی صرف علاقائی روابط کے فروغ اور تعمیری مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ایرانی صدر نے امن عمل میں تعاون پر قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ثالثی کے عمل میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔
مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر مفاہمتی یادداشت تک ہر مرحلے پر پاکستان نے انتھک اور مخلصانہ کوششیں کیں، جنہیں ایران قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔






