اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے ان علاقوں سے دستبردار نہیں ہوگی جہاں وہ اس وقت موجود ہے۔ اسرائیل اس وقت لبنان کے تقریباً ایک پانچواں حصے پر قابض ہے، جس کے باعث جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

لبنان میں حملے کیوں جاری ہیں؟

جمعہ کے روز اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے ضلع نباتیہ کے قصبے مَیفدون پر حملہ کیا، جس میں کم از کم دو افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ اسی دوران نباتیہ الفوقہ پر بھی فضائی حملے کیے گئے۔

لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کی شق موجود ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی یہ کارروائیاں معاہدے کی روح کے خلاف ہیں اور امریکا پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی پر عمل درآمد کا پابند بنائے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی اور لبنانی وفود کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا تاکہ سرحدی کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر بات کی جا سکے۔

نیتن یاہو کا واضح پیغام

اسرائیلی وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل اپنی سکیورٹی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کا مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تل ابیب حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کو اب بھی اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے، اسی لیے وہ مکمل انخلا کے لیے تیار نہیں۔

یہی مؤقف ایران اور حزب اللہ کے اعتراضات کو مزید مضبوط بنا رہا ہے، جو اسرائیلی کارروائیوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

ایران میں کیا پیش رفت ہو رہی ہے؟

ادھر ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ معاہدے کے مطابق ادارے کے معائنہ کار جلد ایران واپس جائیں گے تاکہ جوہری تنصیبات کی نگرانی دوبارہ شروع کی جا سکے۔

تہران نے واضح کیا ہے کہ بعض حساس جوہری مراکز اس وقت تک معائنہ کاروں کے لیے نہیں کھولے جائیں گے جب تک حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا اور امریکا اقتصادی پابندیاں ختم نہیں کرتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔

آبنائے ہرمز پر ایک بار پھر بے یقینی

دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز بھی ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (آئی ایم او) نے جہازوں کی حفاظت کے لیے جاری اپنے حفاظتی اقدامات عارضی طور پر روک دیے، کیونکہ ایک تجارتی جہاز نے عمان کے قریب حملے کی اطلاع دی۔

ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی جہاز ان کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش نہ کرے۔

اگرچہ عمان اور عالمی بحری اداروں نے محفوظ بحری راستوں کی نشاندہی کی ہے، لیکن ایرانی حکام اپنے الگ بحری راستے پر اصرار کر رہے ہیں۔

یہ صورتحال عالمی توانائی کی ترسیل اور بحری تجارت کے لیے نئی تشویش پیدا کر رہی ہے۔

ٹرمپ کا نیا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں سے جاری ہونے والی رقم امریکی زرعی مصنوعات خریدنے پر خرچ کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران گندم، مکئی اور سویابین سمیت دیگر زرعی اجناس امریکا سے خریدے گا، تاہم ایرانی حکومت نے اس دعوے کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس کی تردید کی ہے۔ یہ معاملہ بھی آئندہ مذاکرات میں زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

عالمی معیشت پر فوری اثرات

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث گزشتہ چند ماہ کے دوران عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر رہی، تاہم جنگ بندی کی ابتدائی پیش رفت کے بعد کئی ممالک نے معمول کی سرگرمیاں بحال کرنا شروع کر دی ہیں۔

انڈیا نے تجارتی ایل پی جی (ایل پی جی) کی فراہمی پر جنگ کے دوران لگائی گئی پابندیاں ختم کر دی ہیں۔

ادھر سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے تقریباً چار ماہ بعد خلیج میں واقع رأس تنورہ ٹرمینل سے دوبارہ خام تیل کی لوڈنگ شروع کر دی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات عالمی منڈی کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر کشیدگی مزید نہ بڑھی تو توانائی کی سپلائی دوبارہ مستحکم ہو سکتی ہے۔

کیا جنگ بندی خطرے میں ہے؟

اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، لیکن لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں اس پورے عمل کے لیے سب سے بڑا امتحان بنتی جا رہی ہیں۔

ایران مسلسل مطالبہ کر رہا ہے کہ امریکا اسرائیل کو جنگ بندی پر عمل درآمد کا پابند بنائے، جب کہ اسرائیل حزب اللہ کے خطرے کا جواز پیش کرتے ہوئے اپنی فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کا عندیہ دے رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کئی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ صورتحال بظاہر جنگ بندی ضرور ہے، مگر زمینی حقائق اب بھی مکمل امن کی تصویر پیش نہیں کرتے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

آنے والے دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے تکنیکی مذاکرات، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری رابطے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال اس بات کا تعین کریں گے کہ خطہ مستقل امن کی طرف بڑھتا ہے یا ایک نئی کشیدگی کا شکار ہوتا ہے۔

فی الحال ایک بات واضح ہے کہ معاہدوں پر دستخط اور سفارتی بیانات اپنی جگہ، لیکن جب تک لبنان میں گولہ باری بند نہیں ہوتی اور تمام فریق عملی طور پر جنگ بندی پر عمل نہیں کرتے، مشرقِ وسطیٰ میں امن کا خواب ابھی ادھورا ہی رہے گا۔