بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو خلیجی خطے سے نکلنے اور آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں کی تعداد معمول سے کہیں کم رہی۔
بی بی سی ویریفائی کے تجزیے کے مطابق اس عرصے کے دوران صرف سات جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیجِ عمان میں داخل ہوئے، جن میں تین آئل ٹینکرز اور چار کارگو جہاز شامل تھے۔
بحری انٹیلی جنس کمپنی ونڈورڈ کے مطابق مائع قدرتی گیس لے جانے والا ایک ٹینکر اپنی لوکیشن نشر کیے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرا، جبکہ دیگر چھ جہازوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹمز فعال رکھے۔
رپورٹ کے مطابق مائع قدرتی گیس بردار جہاز ’’ڈشہ‘‘ پہلا ٹینکر تھا جس نے اپنی لوکیشن معلومات جاری رکھتے ہوئے اس حساس آبی گزرگاہ سے سفر کیا۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز اب بحیرۂ عرب میں داخل ہو چکا ہے اور ریاست گجرات کی داہیج بندرگاہ کی جانب رواں دواں ہے۔
بی بی سی ویریفائی نے ایک ویڈیو کا بھی جائزہ لیا ہے جس میں مذکورہ ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو گزشتہ روز سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تھی اور بظاہر کسی قریبی بحری جہاز سے ریکارڈ کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق مارچ کے آغاز سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت مسلسل معمول سے کم رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران یومیہ اوسطاً پانچ سے چھ جہاز اس راستے سے گزرے، جبکہ تنازع سے قبل روزانہ 100 سے زائد جہاز اس اہم سمندری گزرگاہ سے گزرا کرتے تھے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں کمی آئی ہے، تاہم جہاز رانی کمپنیاں اور توانائی کے تاجر مکمل اعتماد کی بحالی تک محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بحری آمدورفت کی مکمل بحالی میں مزید وقت لگ سکتا ہے کیونکہ جہاز مالکان اور انشورنس کمپنیاں خطے کی سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہیں۔






