عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے ابتدائی معاہدے پر اسرائیلی تنقید کو سختی سے مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے، جن کا مقصد حزب اللہ کو کمزور کرنا بتایا جاتا ہے، امریکا کی قیادت میں جاری امن کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خلیجی ممالک کے دورے کے دوران لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا دفاع کیا اور انہیں حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں جائز قرار دیا۔
جب ان سے جے ڈی وینس کے بیانات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی چوکی پر حملے کا حوالہ دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں رہنماؤں کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ بظاہر متحد نظر آتی ہے، تاہم خارجہ پالیسی کے بعض معاملات پر مختلف سوچ رکھنے والے دھڑے موجود ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اختلافات 2028 کے صدارتی انتخابات کے ممکنہ امیدواروں کے طور پر وینس اور روبیو کی الگ الگ سیاسی حکمت عملی کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے دونوں رہنماؤں کو ایران کے ساتھ 17 جون کو طے پانے والے ابتدائی امن معاہدے کے دفاع کے لیے اہم سفارتی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام سے مذاکرات میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے مذاکرات کے مستقبل پر امید کا اظہار کیا اور یہ مؤقف بھی دہرایا کہ خلیجی ممالک مستقبل میں ایران کی تعمیر نو میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: جنگ بندی کے باوجود حملے جاری، اسرائیل لبنان سے انخلا سے انکار کیوں کررہا ہے؟
اس کے برعکس مارکو روبیو نے متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کیا تاکہ خطے کے اتحادیوں کو یقین دہانی کرائی جا سکے کہ امریکا کسی بھی حتمی معاہدے میں ان کے سکیورٹی مفادات کا مکمل تحفظ کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی تعمیر نو کے لیے مالی معاونت کا معاملہ فی الحال زیر غور نہیں اور امریکا کسی بھی قیمت پر معاہدہ نہیں کرے گا۔
ان بیانات کے بعد وائٹ ہاؤس نے دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی خبروں کو مسترد کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ پوری انتظامیہ صدر ٹرمپ کی پالیسی کے ساتھ مکمل طور پر متحد ہے اور اس بات پر متفق ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
⚠️ ISRAEL-LEBANON TALKS CONTINUE IN WASHINGTON AS IDF ENGAGES HEZBOLLAH OPERATIVES
— Israel Realtime (@IsraelRealtime) June 23, 2026
🔸 ISRAEL-LEBANON TALKS HELD IN WASHINGTON: The fifth round of Israel-Lebanon talks is taking place in Washington.
Israel s ambassador to the United States, participating in the talks, said the… pic.twitter.com/hvvqUtQgiM
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے بھی اس تاثر کو جھوٹا اور پرانا بیانیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری انتظامیہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں ایک ہی مؤقف رکھتی ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کار اس وضاحت سے مطمئن نہیں۔
امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو مائیکل روبن کے مطابق جے ڈی وینس اور مارکو روبیو امریکی خارجہ پالیسی کے دو مختلف نظریاتی دھڑوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جے ڈی وینس نسبتاً محدود بیرونی مداخلت کے حامی ہیں، جب کہ روبیو طویل عرصے سے ایران، روس اور دیگر مخالف ممالک کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔
اس کے باوجود دونوں رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کی اہم خارجہ پالیسیوں کی حمایت کی ہے اور حالیہ ہفتوں میں متعدد مواقع پر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ امریکا ایران کے الفاظ نہیں بلکہ اس کے عملی اقدامات کی بنیاد پر مذاکرات کا جائزہ لے گا۔





