جی سیون اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع کافی عرصے سے جاری ہے اور اس کے نتیجے میں بہت زیادہ جانی نقصان ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک شخص کو نشانہ بنانے کے لیے پوری رہائشی عمارت کو تباہ کرنا درست نہیں، کیونکہ ایسی عمارتوں میں موجود تمام افراد حزب اللہ کے رکن نہیں ہوتے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل کو یہ کارروائیاں زیادہ تیزی سے مکمل کر لینی چاہییں تھیں، لیکن جنگ مسلسل طول پکڑ رہی ہے، جس کے باعث خطے میں سفارتی کوششیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر اتوار کو بیروت پر کیے گئے اسرائیلی حملے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب امریکا اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے پر دستخط ہونے میں صرف دو گھنٹے باقی تھے۔ ٹرمپ کے مطابق اس کارروائی نے سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا اور کشیدگی میں اضافہ کیا۔
“I m not happy with the way Israel has handled themselves with Lebanon and with Hezbollah,” President Donald Trump said, expressing frustration over Israel s actions in Lebanon and the recent Beirut bombing. #Trump #Israel #Lebanon #Hezbollah #Beirut #Netanyahu pic.twitter.com/3xsj8L1pJ7
— M World (@themworldnews) June 16, 2026
امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اسرائیل کو مشورہ دیا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ سے نمٹنے کا معاملہ شام کے حوالے کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کی موجودہ قیادت اس مسئلے کو زیادہ مؤثر انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
فرانس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ شام کے صدر احمد الشرع حالات کو سنبھالنے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت دیگر علاقائی رہنماؤں کی کوششوں کو بھی سراہا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں شام حزب اللہ سے نمٹنے کے لیے بہتر کردار ادا کر سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسرائیل کو اس حوالے سے مشورہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر کے اس بیان کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔





