یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کیا، جس کے بعد مصر، قطر، ترکی اور امریکا کی ثالثی میں تیار کیے گئے ایک نئے روڈ میپ کی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔ تاہم، اگرچہ حماس نے اصولی طور پر منصوبے سے اتفاق کیا ہے، اسرائیل نے تاحال اس کی باضابطہ منظوری کا اعلان نہیں کیا۔

اسی لیے یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا یہ منصوبہ واقعی غزہ میں جنگ کا خاتمہ کر سکے گا یا یہ بھی ماضی کے معاہدوں کی طرح صرف ایک اور ناکام کوشش ثابت ہوگا؟

نیا منصوبہ کیا ہے؟

اس منصوبے کا بنیادی مقصد صرف جنگ بندی نہیں بلکہ غزہ میں جنگ کے مکمل خاتمے، حماس کی مرحلہ وار غیر مسلحی، اسرائیلی افواج کے انخلا، نئی فلسطینی انتظامیہ کے قیام اور بین الاقوامی نگرانی میں تعمیر نو کا آغاز ہے۔

ٹرمپ کے مطابق حماس اور دیگر مسلح گروہ مرحلہ وار اپنے ہتھیار ایک فلسطینی قومی کمیٹی کے حوالے کریں گے، جب کہ اسرائیل اسی رفتار سے غزہ سے اپنی فوجیں واپس بلائے گا۔ اس پورے عمل کی نگرانی ایک بین الاقوامی تصدیقی کمیشن، بین الاقوامی استحکام فورس اور نئی فلسطینی پولیس کرے گی۔

حماس نے ہتھیار ڈالنے پر رضامندی کیوں ظاہر کی؟

حماس کے مذاکراتی وفد کے رکن غازی حمد کے مطابق حماس کسی بھی مرحلے پر اپنے وعدے اس وقت تک پورے نہیں کرے گی جب تک اسرائیل بھی معاہدے کے مطابق غزہ سے انخلا شروع نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر مسلحی کا عمل اسرائیل کی نگرانی میں نہیں ہوگا بلکہ ایک فلسطینی قومی کمیٹی اس کی ذمہ دار ہوگی، جب کہ ہتھیار اسرائیل یا کسی دوسرے غیر فلسطینی فریق کے حوالے نہیں کیے جائیں گے۔ یہ مؤقف اس تاثر کو رد کرتا ہے کہ حماس نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

غیر مسلحی کیسے ہوگی؟

منصوبے کے مطابق معاہدے کی منظوری کے 14 دن کے اندر حماس کے ہتھیاروں کی فہرست تیار کی جائے گی۔ ابتدائی مرحلے میں بھاری ہتھیار، راکٹ، اسلحہ کے گودام، عسکری تنصیبات اور زیر زمین سرنگوں کو غیر فعال کیا جائے گا۔

بعد ازاں ایک بین الاقوامی فورس ان علاقوں کی نگرانی سنبھالے گی جہاں سے اسرائیلی فوج واپس جائے گی، جب کہ نئی فلسطینی پولیس مقامی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ امریکی حکام کے مطابق پورا عمل مکمل ہونے میں 200 سے 300 دن لگ سکتے ہیں۔

غزہ کا انتظام کون سنبھالے گا؟

اس منصوبے کے تحت غزہ کی روزمرہ سول انتظامیہ ایک تکنیکی فلسطینی کمیٹی کے سپرد کی جائے گی، جس میں حماس شامل نہیں ہوگی۔

دوسری جانب ایک امریکی قیادت میں قائم  بورڈ آف پیس  جنگ کے بعد تعمیر نو، مالی امداد، سکیورٹی اور مجموعی حکمت عملی کی نگرانی کرے گا۔

منصوبے کے مطابق سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی اس ڈھانچے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی شق نے سب سے زیادہ تنازع بھی پیدا کیا ہے۔

 بورڈ آف پیس  پر اعتراضات کیوں؟

کئی فلسطینی حلقے اور بعض یورپی ممالک اس بورڈ کے اختیارات پر تحفظات رکھتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر غزہ کی تعمیر نو اور انتظام مکمل طور پر امریکی قیادت میں چلا گیا تو اس سے اقوام متحدہ کے کردار کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

مزید یہ کہ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اس بورڈ کے تاحیات چیئرمین رہیں گے، چاہے وہ مستقبل میں امریکا کے صدر نہ بھی ہوں۔ اسی وجہ سے فرانس، اسپین، ناروے سمیت کئی ممالک نے اس بورڈ میں شامل ہونے سے گریز کیا۔

کیا اسرائیل اس منصوبے پر عمل کرے گا؟

یہ سب سے بڑا سوال ہے۔ اسرائیل نے ابھی تک اس منصوبے کو باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔ دوسری جانب فلسطینیوں کے شکوک کی ایک بڑی وجہ گزشتہ جنگ بندی بھی ہے۔

اکتوبر 2025 میں امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی حملے جاری رہے، جن میں کم از کم 1100 فلسطینی شہید ہوئے، جب کہ انسانی امداد کی فراہمی بھی محدود رہی۔ اسی لیے بہت سے فلسطینی اس نئے منصوبے پر مکمل اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔

اسرائیل کی اندرونی سیاست بھی رکاوٹ؟

یہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں عام انتخابات قریب ہیں۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت میں شامل کئی دائیں بازو کی جماعتیں غزہ سے مکمل انخلا کی مخالفت کرتی ہیں۔

ان جماعتوں کا مؤقف ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بستیاں دوبارہ قائم کی جائیں۔ اگر حکومت ان جماعتوں کے دباؤ میں آتی ہے تو معاہدے پر عمل درآمد مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

کیا صرف حماس کافی ہے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں صرف حماس ہی واحد مسلح گروہ نہیں۔ اسلامی جہاد اور دیگر چھوٹے گروہ بھی موجود ہیں۔ اگر ان میں سے کسی نے معاہدہ تسلیم نہ کیا تو پورا منصوبہ متاثر ہو سکتا ہے۔

اسی لیے بین الاقوامی مبصرین اس معاہدے میں تصدیق کے نظام کو سب سے اہم عنصر قرار دے رہے ہیں۔

کیا یہ معاہدہ کامیاب ہوگا؟

ماہرین اس بارے میں منقسم ہیں۔ بعض کے مطابق پہلی بار حماس نے غیر مسلحی جیسے حساس معاملے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔

دوسری جانب کئی مبصرین یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں بھی متعدد جنگ بندیوں اور امن منصوبوں کا اعلان ہوا، لیکن زمینی صورتحال میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔

امریکی یونیورسٹی آف بیروت سے وابستہ تجزیہ کار رامی خوری کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلانات کو فوری طور پر بڑی سفارتی کامیابی تصور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے بہت سے بیانات بعد میں عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔

اسی طرح صحافی اور مصنف اینٹونی لووینسٹین کے مطابق اصل سوال صرف جنگ بندی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ جنگ کے بعد غزہ کی تعمیر نو کس کے مفادات کے تحت ہوگی اور فلسطینیوں کو اپنے مستقبل پر کتنا اختیار حاصل ہوگا۔

فلسطینیوں کے لیے اصل سوال

غزہ میں رہنے والے لاکھوں فلسطینیوں کے لیے اس وقت سب سے اہم سوال سیاسی اعلانات نہیں بلکہ روزمرہ زندگی ہے۔

دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ میں ہزاروں افراد جان سے جا چکے ہیں، بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہیں، خوراک، ادویات اور رہائش کی شدید قلت برقرار ہے۔

اسی لیے غزہ کے شہری اب کسی نئے اعلان سے زیادہ اس دن کے منتظر ہیں جب بمباری واقعی رک جائے، وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں اور انہیں یقین ہو کہ یہ جنگ واقعی اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے۔