برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق حماس اور اسرائیل کے نمائندے براہِ راست ایک دوسرے سے ملاقات نہیں کر رہے بلکہ دونوں فریقین مصری اور قطری ثالثوں کے ذریعے اپنے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

مذاکرات میں سب سے اہم نکتہ اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہے۔ مصر کے ایک سینئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاسوں میں شرائط طے کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ ابتدائی مرحلے میں کچھ قیدیوں کے تبادلے سے اعتماد سازی کا عمل شروع ہو سکے۔

دوسری جانب قطر اور مصر دونوں اس عمل کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں کہ شاید ایک طویل المدتی جنگ بندی ممکن بنائی جا سکے۔ دونوں ممالک کے حکام مسلسل دونوں فریقوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ کسی مشترکہ فارمولا پر اتفاق ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مذاکرات میں انسانی امداد کی فراہمی، غزہ کے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور سرحدی چوکیاں کھولنے کے مسائل پر بھی بات ہو رہی ہے۔ فریقین کی جانب سے کسی باضابطہ اعلان کی توقع نہیں، مگر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پہلا مرحلہ کامیاب رہا تو اگلے چند ہفتوں میں جنگ بندی کے رسمی معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے حماس نے مجوزہ امن منصوبے کے کچھ حصوں سے اتفاق کیا تھا، لیکن تنظیم نے اس مطالبے پر کوئی واضح مؤقف نہیں دیا جس کے مطابق حماس کو غیر مسلح کیا جانا چاہیے۔ یہی نکتہ فی الحال مذاکرات کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔

غزہ میں زمینی صورتِ حال اب بھی سنگین ہے۔ غزہ پٹی کے کئی علاقے تاحال اسرائیلی فضائی حملوں کی زد میں ہیں اور ہزاروں لوگ پناہ کی تلاش میں بے یار و مددگار ہیں۔ اس کے باوجود شرم الشیخ میں جاری یہ مذاکرات خطے میں امن کی ایک نئی اور محتاط امید کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب غزہ جنگ کو دو سال کے قریب ہو چکے ہیں۔ یہ تنازع اُس وقت شروع ہوا تھا جب سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر بڑا حملہ کیا، جس کے بعد اسرائیلی افواج نے غزہ پر جوابی کارروائی کی۔ اس طویل جنگ کے نتیجے میں 65 ہزار کے قریب فلسطینی شہری شہید ہو چکے ہیں