ٹرمپ نے بتایا کہ قطری ثالثوں کے ذریعے حماس نے اپنا جواب بھجوایا ہے، جسے انہوں نے خود شیئر بھی کیا۔ اس جواب میں حماس نے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور غزہ کی انتظامیہ سے دستبرداری جیسے نکات سے اتفاق کیا جبکہ باقی امور پر مزید بات چیت کی خواہش ظاہر کی۔ ان نکات میں حماس کی غیر مسلح ہونے کی شرط بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس کے امن منصوبے کی حمایت کر دی ہے، جس میں 72 گھنٹوں کے اندر اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، جنگ بندی، حماس کا غیر مسلح ہونا اور اسرائیلی افواج کی تدریجی پسپائی شامل ہے۔ اس کے بعد ایک عبوری انتظامیہ قائم کی جائے گی جس کی قیادت صدر ٹرمپ کریں گے۔

حماس کے سیاسی بیورو کے رکن محمد نزال نے جمعے کی صبح کہا تھا کہ منصوبے میں کچھ تشویش ناک پہلو موجود ہیں اور تنظیم ایسا جواب دینا چاہتی ہے جو فلسطینی عوام کے مفاد میں ہو۔ بعد ازاں اپنے تازہ بیان میں حماس نے کہا کہ وہ امریکی، عرب اور اسلامی کوششوں کی قدر کرتی ہے، اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی سمیت مختلف معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

تاہم، حماس کے سینئر رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ 72 گھنٹوں کے اندر قیدیوں اور لاشوں کی حوالگی عملی طور پر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق غزہ کا مستقبل ایک قومی مسئلہ ہے جس کا فیصلہ صرف حماس نہیں کر سکتی، اور قبضے کے خاتمے سے قبل گروپ غیر مسلح نہیں ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حماس کے جس بیان کو صدر ٹرمپ نے شیئر کیا اس میں غیر مسلح ہونے کی شرط کا ذکر ہی موجود نہیں تھا۔ ٹرمپ نے اسی بنیاد پر کہا کہ حماس پائیدار امن کے لیے تیار ہے اور اسرائیل کو فوری طور پر غزہ پر بمباری بند کرنی چاہیے تاکہ یرغمالیوں کی محفوظ رہائی ممکن ہو سکے۔

دوسری جانب، حماس کے رہنما محمود مرداوی نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ امریکی تجویز مبہم ہے اور اس پر مزید وضاحت اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ امریکا یا اسرائیل مزید بات چیت کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔