یہ تمام افراد 45 جہازوں پر مشتمل گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے جن میں سیاستدان اور سماجی کارکن بھی شریک تھے۔ ان کا مقصد غزہ میں امدادی سامان پہنچانا تھا جہاں اقوام متحدہ کے مطابق قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فورسز نے بدھ کے روز قافلے کو روکنا شروع کیا اور بعدازاں اعلان کیا کہ 400 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
اطالوی اور یونانی وزرائے خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے شہری پیر کو اسرائیل سے ایتھنز روانہ ہوں گے۔ اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کے مطابق 15 اطالوی باشندوں کو بعد ازاں وطن واپس لانے کا انتظام کیا جائے گا، جبکہ فرانس نے کہا ہے کہ اس کے 28 شہری پہلے یونان بھیجے جائیں گے۔ سویڈن نے حتمی مقام کی وضاحت نہیں کی تاہم امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کے شہری بھی یونان منتقل کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ اٹلی کے 26 افراد پر مشتمل پہلا گروپ ہفتہ کو اسرائیل سے روانہ ہو گیا تھا، جبکہ باقی 15 کو اس لیے روکا گیا کہ انہوں نے اپنی رضاکارانہ رہائی سے متعلق فارم پر دستخط کرنے سے انکار کیا۔ بعد میں وطن واپس پہنچنے والے کئی اطالویوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی حکام نے ان کے ساتھ ہتک آمیز اور پرتشدد رویہ اختیار کیا۔ صحافی سیوریو ٹوماسی نے بتایا کہ انہیں فوجیوں نے مارا پیٹا اور یوں برتاؤ کیا گیا جیسے کسی پرانے سرکس کے جانوروں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
سویڈن کی وزیر خارجہ ماریہ مالمر سٹینگرڈ نے تصدیق کی کہ تل ابیب میں ان کے سفارت خانے کے عملے نے حراست میں لیے گئے نو سویڈش شہریوں سے ملاقات کی۔ ان کے مطابق اسرائیلی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پیر کی صبح ان افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایک ہسپانوی شہری رافیل بوریگو نے واپسی پر بتایا کہ اسرائیلی حراست میں تمام افراد کو بار بار جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔






