ڈاکٹر فاطمہ، جو ایک آکوپیشنل تھراپسٹ اور کینسر سے صحت یاب ہونے والی سماجی کارکن ہیں، اس سے قبل بھی غزہ کے لیے روانہ ہونے والی ایک سمندری امدادی مہم میں حصہ لے چکی ہیں۔
ان کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ اکتوبر 2025 میں انہیں ایک سمندری امدادی قافلے کے دوران بین الاقوامی پانیوں میں حراست میں لیا گیا تھا اور وہ چند روز بعد رہا ہو کر واپس لوٹ آئیں۔
اس کے بعد وہ ایک نئے زمینی امدادی قافلے سے منسلک ہوئیں جسے “گلوبل صمود لینڈ کنوائے” کا نام دیا گیا ہے۔
یہ قافلہ 15 مئی 2026 کو یومِ نکبہ کے موقع پر لیبیا کے شہر زالیتان سے روانہ ہوا۔ منتظمین کے مطابق اس میں سات ایمبولینسیں، بیس موبائل ہومز اور دس امدادی ٹرک شامل ہیں، جبکہ اس میں 25 سے زائد ممالک کے 200 سے زائد افراد شریک ہیں۔
شرکاء میں ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ، وکلاء اور انسانی حقوق کے مبصرین شامل ہیں، اور قافلے کا مقصد غزہ کے جنوبی علاقے رفح تک امدادی سامان پہنچانا بتایا گیا ہے۔
ڈاکٹر فاطمہ ہینڈرکس نے روانگی سے قبل کہا کہ وہ انسانی امداد کی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گی، چاہے انہیں رکاوٹوں یا گرفتاریوں کا سامنا ہی کیوں نہ ہو۔
تاہم قافلے کے منتظمین کے مطابق مشرقی لیبیا کی انتظامیہ نے سرت کے بعد قافلے کی پیش قدمی روک دی۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے آگے بڑھنے والے تقریباً 10 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں مختلف ممالک کے شہری شامل تھے۔
لیبیائی حکام کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
قافلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک انسانی مشن کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ہے، جبکہ ان کے مطابق بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت امدادی سامان کی ترسیل کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
یہ زمینی قافلہ، جسے منتظمین “لینڈ فلوٹیلا” قرار دیتے ہیں، سمندری امدادی کوششوں کے تسلسل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، اور اس کا مقصد غزہ میں جاری انسانی بحران کے متاثرین تک طبی اور امدادی سامان پہنچانا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ قافلہ اپنی منزل کی طرف پیش رفت دوبارہ شروع کر سکے گا یا نہیں۔






