حالیہ امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بعد بھی یہی سوال دوبارہ سامنے آیا، کیونکہ معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حملے جاری رکھے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج مقبوضہ لبنانی علاقوں سے واپس نہیں ہٹے گی۔
ایران نے ان حملوں کو امریکا۔ایران معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک لبنان میں جنگ بندی پر مکمل عمل نہیں ہوگا، معاہدے کے اگلے مراحل پر پیش رفت ممکن نہیں۔
اسرائیل میں معاہدے پر شدید ناراضی کیوں؟
حالیہ اسرائیلی سروے کے مطابق تقریباً 92 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ سمجھوتہ کرکے اسرائیل کی کئی دہائیوں کی فتح ضائع کردی۔ سروے میں تقریباً نصف افراد نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو امریکا کی خواہش کے برخلاف بھی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنی چاہئیں۔
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی معاشرے کا ایک بڑا حصہ سفارتی حل کے بجائے فوجی دباؤ کو زیادہ مؤثر سمجھتا ہے۔
7 اکتوبر کے بعد اسرائیل کن کن محاذوں پر لڑ رہا ہے؟
گزشتہ تقریباً تین برسوں میں اسرائیل نے بیک وقت کئی محاذ کھولے۔ غزہ میں وسیع فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی شہید ہوئے اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔
اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مسلسل فضائی حملے کیے، شام میں متعدد زمینی اور فضائی کارروائیاں کیں، یمن میں حوثیوں کو نشانہ بنایا اور ایران پر بھی دو مرتبہ براہِ راست حملے کیے۔
اسرائیلی قیادت کا مؤقف ہے کہ ان تمام کارروائیوں کا مقصد مستقبل کے خطرات کو پہلے ہی ختم کرنا ہے، لیکن ناقدین کے مطابق اس حکمتِ عملی نے خطے کو مزید غیر مستحکم کیا ہے۔
امریکا۔ایران معاہدہ اور اسرائیل کی بے چینی
چند روز قبل امریکا اور ایران کے درمیان ایک عبوری مفاہمتی یادداشت طے پائی، جس کے تحت دونوں ممالک نے 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، پابندیوں میں نرمی اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شامل ہیں۔
لیکن اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں ہے، اسی لیے تل ابیب نے لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ چونکہ معاہدہ امریکا نے کیا ہے، اس لیے اسرائیل کو جنگ بندی پر عمل کرانا بھی واشنگٹن کی ذمہ داری بنتی ہے۔
کیا اسرائیل معاہدے کو ناکام بنانا چاہتا ہے؟
بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اگر ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر ہوگئے تو خطے میں اسرائیل کی سلامتی کی موجودہ حکمتِ عملی تبدیل ہوسکتی ہے۔
اسی لیے اسرائیل مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ ایران کے خلاف دباؤ برقرار رہنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی نرمی مستقبل میں زیادہ بڑے خطرات پیدا کرسکتی ہے۔
نیتن یاہو کی داخلی سیاست بھی ایک وجہ؟
کئی اسرائیلی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مسلسل جنگ صرف سلامتی کا معاملہ نہیں بلکہ داخلی سیاست سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کے حملے میں ناکامی، بدعنوانی کے مقدمات اور آئندہ انتخابات جیسے کئی سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔
اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار شائیل بین ایفرائم کے مطابق نیتن یاہو سمجھتے ہیں کہ جب تک ملک جنگی کیفیت میں رہے گا، ان پر سیاسی اور قانونی دباؤ نسبتاً کم رہے گا۔
اسرائیلی سیاست میں جنگ پر اتفاق کیوں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید اختلافات کے باوجود جنگی پالیسی پر خاصا اتفاق پایا جاتا ہے۔
سابق آرمی چیف گاڈی آئزنکوٹ نے ایران کے خلاف حملے کو حالیہ دہائیوں کی سب سے جائز جنگ قرار دیا، جب کہ اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ نے بھی ایران کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کی، اگرچہ انہوں نے امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے پر سخت تنقید کی۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی سیاست میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سخت مؤقف تقریباً تمام بڑی جماعتوں میں مشترک ہے۔
اسرائیلی معاشرے میں خوف کی نفسیات
تل ابیب یونیورسٹی کے ماہرِ عمرانیات ڈینیئل بار تال کے مطابق 7 اکتوبر کے بعد اسرائیلی معاشرے میں اس حملے کو صرف ایک دہشت گرد حملہ نہیں بلکہ یہودی تاریخ اور ہولوکاسٹ کے تسلسل کے طور پر پیش کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی شناخت، اجتماعی مظلومیت کا احساس اور مستقل خطرے کا تصور اسرائیلی عوام کی سوچ میں اس حد تک رچ بس گیا ہے کہ زیادہ تر لوگ جنگ کو ناگزیر سمجھنے لگے ہیں۔
اتنی جنگوں کے باوجود کیا اسرائیل زیادہ محفوظ ہوا؟
یہ ایک اہم سوال ہے۔ غزہ میں حماس اب بھی کئی علاقوں میں موجود ہے۔ لبنان میں حزب اللہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ ایران کا سیاسی نظام بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ اسی لیے ناقدین کا کہنا ہے کہ مسلسل فوجی کارروائیوں کے باوجود اسرائیل اپنے بنیادی سکیورٹی اہداف حاصل نہیں کرسکا۔
🔴Updated casualty toll from the Lebanese Ministry of Health: 4,230 civilians killed and 12,179 wounded in Israeli attacks since March 2nd.
— courtneybonneauimages (@cbonneauimages) June 25, 2026
Report from Mifdoun, where three civilians were killed earlier today in an Israeli attack. The Israelis sent over an armed quadcopter to… pic.twitter.com/MjmCo85ZeL
لبنان اب سب سے حساس محاذ کیوں؟
امریکا۔ایران مذاکرات کے پہلے مرحلے میں لبنان سب سے اہم مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ ایران واضح کرچکا ہے کہ جب تک لبنان میں مکمل جنگ بندی پر عمل نہیں ہوگا، وہ معاہدے کے اگلے مرحلے میں آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈال کر جنوبی لبنان سے انخلا نہیں کرے گا۔ اسی اختلاف نے موجودہ سفارتی عمل کو انتہائی نازک بنا دیا ہے۔
آگے کیا ہوسکتا ہے؟
آنے والے ہفتوں میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کی ثالثی میں تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں، منجمد اثاثوں اور لبنان میں جنگ بندی جیسے معاملات زیر بحث آئیں گے۔
لیکن اگر اسرائیل لبنان میں حملے جاری رکھتا ہے تو یہ صرف جنگ بندی ہی نہیں بلکہ پورے امریکا۔ایران مذاکراتی عمل کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
کیا اسرائیل کی "ہمیشہ کی جنگ" ختم ہوگی؟
فی الحال اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ ایک طرف اسرائیلی قیادت ہر ممکن خطرے کو فوجی طاقت سے ختم کرنے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے، جب کہ دوسری طرف ایران، حزب اللہ، حماس اور دیگر علاقائی قوتیں بھی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
مشرق وسطیٰ میں ہر نیا معاہدہ امید ضرور پیدا کرتا ہے، لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ مستقل امن کے لیے صرف جنگ بندی کافی نہیں، بلکہ سیاسی اعتماد، سفارتی ضمانتیں اور تمام فریقوں کی عملی پابندی بھی ضروری ہوگی۔ جب تک یہ عناصر اکٹھے نہیں ہوتے، اسرائیل کی مسلسل جنگیں شاید ختم نہ ہوں اور خطہ بار بار نئے بحرانوں کا سامنا کرتا رہے گا۔





