سوشل میڈیا پر جاری بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ "غرور میں ڈوبا ایک شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر طاقتور ترین حکمرانوں کے ساتھ کیا ہوا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ میں یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ طاقت اور اقتدار میں غرق حکمران آخرکار سقوط کا شکار ہوئے، اور یہی سبق موجودہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی سخت بیان دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو ایران میں فسادات اور انتشار پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ "امریکا اور اسرائیل لوگوں کو ہدایات دے رہے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، جاؤ تخریب کاری کرو۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ماضی میں ایران پر حملہ کیا۔"
مزید پڑھیں: ایرانی مظاہروں سے اسرائیل کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، ترک وزیر خارجہ
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی غیر ملکی کو ایران میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قومی یکجہتی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو کھلا رکھا ہے اور کہا ہے کہ ملاقات کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ایران کے خلاف مختلف طاقتور آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، جس میں سفارتی، اقتصادی اور فوجی آپشنز شامل ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران میں حالیہ احتجاجات اور داخلی کشیدگی نے خطے کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی اور ایرانی بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات ہیں، اور عالمی برادری کی نظریں مستقبل کے سفارتی اقدامات پر مرکوز ہیں۔






