فائیو آئیز کی جانب سے جاری کردہ وارننگ میں کہا گیا ہے کہ چین کی فوجی انٹیلی جنس سروسز پروفیشنل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس اور آن لائن جاب پورٹلز کے ذریعے حکومت، فوج اور ایسے افراد کو نشانہ بنا رہی ہیں جو خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی داخلی سلامتی کی ایجنسیوں کے مطابق چینی فوجی انٹیلی جنس کا بنیادی مقصد ایسی فوجی، سیاسی اور اقتصادی معلومات حاصل کرنا ہے جو چین کو فائیو آئیز ممالک پر اسٹریٹجک اور ٹیکٹیکل برتری فراہم کر سکیں۔

اگرچہ ماضی میں مختلف ممالک کی جانب سے انفرادی طور پر ایسی وارننگز جاری کی جاتی رہی ہیں، تاہم اس بار پانچوں اتحادی ممالک نے مشترکہ طور پر یہ انتباہ جاری کیا ہے۔

دوسری جانب بیجنگ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سراسر من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی بہتان قرار دیا ہے۔

لندن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے جمعرات کو جاری بیان میں فائیو آئیز کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد چینی جاسوسی کے خطرے کا الزام مکمل طور پر بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا ہے۔

فائیو آئیز ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ چینی جاسوس خاص طور پر دفاع، خارجہ امور اور انٹیلی جنس کے شعبوں سے وابستہ ماہرین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فوجی اہلکار، بالخصوص ہند-بحرالکاہل خطے میں تعینات عملہ بھی ان کے ہدف پر ہے۔

وارننگ میں مزید کہا گیا ہے کہ صحافی، تھنک ٹینکس کے ملازمین اور ایسے افراد جنہیں سرکاری ڈیٹا تک براہِ راست یا بالواسطہ رسائی حاصل ہے، وہ بھی خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

بریفنگ کے مطابق چینی جاسوس آن لائن بھرتی کی جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں اور منتخب افراد پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ ایسے نامعلوم کلائنٹس کو حساس معلومات فراہم کریں جن کا تعلق چینی حکومت سے ہوتا ہے۔

بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ بھرتی کیے گئے افراد کو ہر رپورٹ کے عوض چند سو سے لے کر کئی ہزار ڈالر تک ادا کیے جا سکتے ہیں، جبکہ معلومات کی حساسیت بڑھنے کے ساتھ معاوضے میں بھی اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

امریکہ اس سے قبل بھی خبردار کر چکا ہے کہ چینی انٹیلی جنس ادارے موجودہ اور سابق امریکی سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانے کے لیے دھوکہ دہی پر مبنی حربے استعمال کر رہے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ کی سیکیورٹی سروس ایم آئی فائیو نے گزشتہ سال نومبر میں قانون سازوں کو پارلیمنٹ میں جاسوسی کی مبینہ کوششوں سے متعلق متنبہ کیا تھا۔