وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے کاغذات تقریباً تیار ہو چکے ہیں اور دونوں فریق عمل کو مکمل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا، “یہ بہت جلد مکمل ہو جانا چاہیے۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران بھی اس معاہدے میں اتنی ہی دلچسپی رکھتا ہے جتنی دیگر فریقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، “وہ بھی اسے اتنی ہی شدت سے چاہتے ہیں جتنی ہر کوئی چاہتا ہے۔”
امریکی صدر نے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات یا باقی رہ جانے والے اختلافی نکات پر بات نہیں کی، تاہم ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی ماہ سے جاری مذاکرات اور علاقائی کشیدگی کے باوجود سفارتی کوششوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان سیاسی، سلامتی اور معاشی امور پر ایک طویل المدتی سمجھوتہ طے کرنے کی عالمی کوششیں جاری ہیں۔
مبصرین کے مطابق اگر معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو اس سے خطے میں عدم استحکام کم ہو سکتا ہے، سفارتی تعلقات بہتر بن سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ سے متعلق مختلف امور پر وسیع تر تعاون کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
معاہدے کی مکمل تفصیلات مذاکرات کے باضابطہ اختتام اور حتمی دستاویزات پر دستخط کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔





