قطری وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دوحہ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات تعمیری ماحول میں ہوئے اور دونوں فریقوں نے اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا، مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور ایران کی اعلیٰ مذہبی قیادت سے متعلق رسومات کی تکمیل کے بعد اگلا اجلاس جلد منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔
قطر، جو گزشتہ کئی برسوں سے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا آ رہا ہے، ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور سفارتی رابطوں کے فروغ میں سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر اور سابق امریکی سفارت کار گورڈن گرے نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قطر کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے "مثبت پیش رفت" کی اصطلاح استعمال کرنا سفارتی لحاظ سے خاصی اہمیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سفارتی دنیا میں الفاظ کا انتخاب انتہائی سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے، اس لیے جب کسی مذاکراتی عمل کو مثبت قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دونوں فریق بات چیت کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ ہیں اور کم از کم کچھ معاملات پر مشترکہ نکات تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے۔
گورڈن گرے کے مطابق اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے بلکہ قطر کی ثالثی میں بالواسطہ رابطے جاری ہیں، تاہم اس کے باوجود بات چیت کا جاری رہنا خود ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی بعض بنیادی شرائط اب بھی امریکا کے لیے قابل قبول نہیں، جن میں آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی مؤقف بھی شامل ہے،عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم اس سمندری راستے پر ایران کے مطالبات بین الاقوامی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے، تاہم عمان جیسے علاقائی ممالک ممکنہ حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہر نے مزید کہا کہ لبنان اور خطے کے بعض دیگر معاملات پر امریکا نسبتاً زیادہ لچک دکھا سکتا ہے کیونکہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی ترجیحات میں یہ معاملات پہلے درجے پر شامل نہیں، اس لیے ان نکات پر پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔
ادھر ایران نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیت، میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی کسی بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں بن سکتے۔
ایران کے قائم مقام وزیر دفاع میجر مجید ابن الرضا نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی طاقت، بیلسٹک میزائل پروگرام اور ڈرون صلاحیت قومی سلامتی کا بنیادی حصہ ہیں اور ان معاملات پر نہ ماضی میں کوئی سمجھوتہ کیا گیا، نہ آئندہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھے گا اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا، ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو سفارتی انداز میں حل کرنا اور ایسے کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے جو مستقبل میں خطے میں استحکام کا باعث بن سکے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ نہیں کر رہا بلکہ اس کی توجہ افزودگی کی سطح، شفافیت اور بین الاقوامی نگرانی کے مؤثر نظام پر مرکوز ہے، جبکہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کو قومی حق قرار دیتا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی وزیر داخلہ سے محسن نقوی کی ملاقات، سکیورٹی شعبے میں ’مزید تعاون بڑھانے‘ کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط
یاد رہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان کئی بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں، تاہم مذاکرات کا تسلسل اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریق سفارتی راستہ بند کرنے کے بجائے مسائل کے حل کے لیے بات چیت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ اور خلیجی خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری یہ مذاکرات عالمی سطح پر خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔






