رپورٹس کے مطابق مجوزہ قانون بنیادی طور پر مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے دی جانے والی اذان کو ہدف بناتا ہے، جب کہ اس مسودۂ قانون کو دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔
ڈنمارک کی دائیں بازو کی جماعت ڈینش پیپلز پارٹی نے بل کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عوامی مقامات پر کسی بھی مذہبی آواز کو زبردستی مسلط نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب، ڈنمارک کی مسلم کمیونٹی نے مجوزہ قانون کو مذہبی آزادی پر براہِ راست حملہ اور اسلاموفوبیا کی ایک واضح مثال قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
🇩🇰 Denmark will investigate a nationwide ban on public broadcasts of the Islamic call to prayer, Immigration Minister Morten Bødskov has announced.
— Europa.com (@europa) June 25, 2026
According to Bødskov, the call to prayer should not be heard over Danish rooftops and has no place in Denmark, with some areas… pic.twitter.com/6dWzwNlsV6
انسانی حقوق کے اداروں نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ پابندی نافذ کی گئی تو یہ انسانی حقوق کے یورپی کنونشن اور مذہبی آزادی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہو گی۔
واضح رہے کہ ڈنمارک اس سے قبل بھی عوامی مقامات پر برقع پر پابندی اور مساجد کی بیرونی فنڈنگ سے متعلق قوانین نافذ کر چکا ہے، جن پر انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے تنقید کی جاتی رہی ہے۔






