رپورٹس کے مطابق مجوزہ قانون بنیادی طور پر مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے دی جانے والی اذان کو ہدف بناتا ہے، جب کہ اس مسودۂ قانون کو دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

ڈنمارک کی دائیں بازو کی جماعت ڈینش پیپلز پارٹی نے بل کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عوامی مقامات پر کسی بھی مذہبی آواز کو زبردستی مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری جانب، ڈنمارک کی مسلم کمیونٹی نے مجوزہ قانون کو مذہبی آزادی پر براہِ راست حملہ اور اسلاموفوبیا کی ایک واضح مثال قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ پابندی نافذ کی گئی تو یہ انسانی حقوق کے یورپی کنونشن اور مذہبی آزادی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہو گی۔

واضح رہے کہ ڈنمارک اس سے قبل بھی عوامی مقامات پر برقع پر پابندی اور مساجد کی بیرونی فنڈنگ سے متعلق قوانین نافذ کر چکا ہے، جن پر انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے تنقید کی جاتی رہی ہے۔