غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ 109 منزلہ سی آئی ٹی آئی سی ٹاور کے قریب پیش آیا، جسے چائنا زون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ عمارت بیجنگ کی بلند ترین عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔
BEIJING S TALLEST TOWER HIT
— Global South World (@g_s_world) June 26, 2026
A small aircraft crashed into Beijing s tallest building on Friday, sending debris and aircraft parts falling onto the streets below and prompting a major emergency response in the Chinese capital.
Witnesses said the aircraft struck the CITIC Tower,… pic.twitter.com/6iUGLGu9TF
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حادثے کے بعد عمارت سے ملبہ نیچے گر رہا ہے، جب کہ طیارے کا پچھلا حصہ اور زمین پر موجود ایک ٹیکسی کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی بھی ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے فوراً بعد عمارت سے لوگوں کا انخلا شروع کر دیا گیا، جب کہ جائے وقوعہ پر متعدد فائر ٹرک، پولیس گاڑیاں اور ایمبولینسیں پہنچ گئیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق متعلقہ حکام اور طیارے کے مالک سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ حادثے کی وجوہات اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
#BREAKING
— NEWS WALA (@NEWSWALApy) June 26, 2026
A Sunward SA 60L Aurora light aircraft (B-12PP) crashed in Beijing. Footage from the scene indicate the aircraft had hit the China Zun CITIC Tower, a 109-story, 528-metre (1,732 ft) building. pic.twitter.com/ukgcXQI3ul
آن لائن دستیاب تصاویر کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ مقامی طور پر تیار کردہ ہلکا اسپورٹس طیارہ سن ورڈ ایس اے 60 ایل اورورا معلوم ہوتا ہے، جو ایک مقامی جنرل ایوی ایشن کمپنی کی ملکیت بتایا جا رہا ہے۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے فلائٹ ریڈار 24 کی جانب سے جاری غیر مصدقہ معلومات کے مطابق حادثے سے قبل طیارے کے پروازی راستے میں غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی تھی۔
واضح رہے کہ چین نے یکم مئی سے نئے قوانین کے تحت دارالحکومت بیجنگ میں ڈرونز کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن کے مطابق حکومتی اجازت کے بغیر شہریوں کو ڈرون خریدنے، کرائے پر لینے یا اڑانے کی اجازت نہیں ہے۔






