ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ بیروت کی جانب کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی اور جو فوجی دستے روانہ ہو چکے ہیں، انہیں واپس موڑ دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گی۔

اس سے قبل ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا تھا کہ لبنان میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی حملوں کے باعث ایرانی مذاکراتی وفد نے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق اس کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، اس وقت تک کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔

اس سے کچھ دیر قبل ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے تاحال امریکا کو جنگ بندی سے متعلق پیغامات کے تبادلے کی معطلی سے آگاہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کے پیغامات کا تبادلہ روکنے کے فیصلے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، اور امریکا اس وقت کا انتظار کرے گا جب ایران امریکی شرائط کے مطابق معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہوگا۔