اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خفیہ رائے شماری کے دوران خلیل الرحمٰن نے 99 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے حریف کو 91 ووٹ ملے۔ 193 رکنی اسمبلی میں 190 ووٹ ڈالے گئے اور کسی رکن نے رائے شماری سے گریز نہیں کیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت علاقائی بنیادوں پر باری باری مختلف گروپوں کو دی جاتی ہے اور 81واں اجلاس ایشیا پیسیفک گروپ کے حصے میں آیا تھا۔ خلیل الرحمٰن 8 ستمبر 2026 سے ایک سالہ مدت کے لیے اپنے عہدے کا آغاز کریں گے۔

خلیل الرحمٰن کو سفارت کاری اور بین الاقوامی امور میں چار دہائیوں سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔ وہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ہونے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے مشیر اور روہنگیا امور پر خصوصی نمائندے کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

انہوں نے 1979 میں بنگلہ دیش کی فارن سروس میں شمولیت اختیار کی تھی اور اقوام متحدہ کے نیویارک اور جنیوا دفاتر میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔

اپنی کامیابی کے بعد خطاب کرتے ہوئے خلیل الرحمٰن نے کہا کہ وہ یہ ذمہ داری  عاجزی اور احترام  کے ساتھ قبول کر رہے ہیں، ایسے وقت میں جب عالمی اداروں پر اعتماد مختلف چیلنجز کی وجہ سے آزمائش سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اپنی نویں دہائی کا آغاز ایک ایسے دور میں کر رہی ہے جب دنیا کو جنگوں، بڑھتی ہوئی عدم مساوات، ماحولیاتی بحران اور بین الاقوامی تقسیم جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

خلیل الرحمٰن کی صدارت ایسے وقت میں ہوگی جب اقوام متحدہ کو ایک اہم مرحلے کا سامنا ہے، کیونکہ موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی مدت 31 دسمبر 2026 کو مکمل ہو رہی ہے اور ان کے جانشین کے انتخاب کا عمل بھی اسی دوران شروع ہوگا۔

مزید پڑھیں: جاپان نے ایران جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے 19 ارب ڈالر کا اضافی بجٹ منظور کر لیا

نو منتخب صدر نے اپنی مدت کے لیے چھ اہم ترجیحات کا اعلان کیا ہے جن میں عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقیاتی اہداف، ماحولیاتی تحفظ، انسانی حقوق، مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجیز کی حکمرانی اور اقوام متحدہ میں اصلاحات شامل ہیں۔

انہوں نے اپنی صدارت کا مرکزی نعرہ "اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا مؤثر انتظام: ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے نتائج فراہم کرے" قرار دیا اور عزم ظاہر کیا کہ وہ رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے اور عالمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پل کا کردار ادا کریں گے۔

یہ بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل 1986-87 میں بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ ہمایوں رشید چودھری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 41ویں اجلاس کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ تقریباً چار دہائیوں بعد بنگلہ دیش نے ایک بار پھر یہ اہم عالمی منصب حاصل کر لیا ہے۔