ذرائع کے مطابق ایرانی صدر کل (منگل) پاکستان کا مختصر لیکن اہم سرکاری دورہ کر سکتے ہیں، جس کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

 ایرانی صدر  کے متوقع ایک روزہ سرکاری دورۂ پاکستان کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں، جبکہ ریڈ زون اور اہم سرکاری عمارتوں کو خصوصی طور پر سجانے اور انتظامات کو حتمی شکل دینے کا عمل جاری ہے۔

اطلاعات ہیں کہ ایرانی صدر اپنے دورے کے دوران پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور حالیہ علاقائی سفارتی پیش رفت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر گفتگو کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط اور باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

متوقع دورے کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون میں خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ مختلف شاہراہوں، سرکاری عمارتوں اور اہم مقامات پر پاکستان اور ایران کے قومی پرچم آویزاں کر دیے گئے ہیں، جبکہ خوبصورتی اور تزئین و آرائش کے کام کو بھی تیز کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے اہلکار ریڈ زون اور اطراف کے علاقوں میں صفائی، سجاوٹ اور دیگر انتظامی امور میں مصروف ہیں تاکہ معزز مہمان کے استقبال کے لیے بہترین ماحول فراہم کیا جا سکے۔

دوسری جانب سکیورٹی اداروں نے بھی متوقع دورے کے حوالے سے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ اہم سرکاری تنصیبات، سفارتی مراکز اور حساس مقامات کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے، جبکہ ریڈ زون اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے کا مؤثر نظام قائم کیا گیا ہے اور دورے کے دوران سکیورٹی پلان پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور قطر کی کوششوں سے لبنان جنگ کے خاتمہ میں بڑی پیشرفت ہو گئی: عباس عراقچی

سفارتی حلقوں کے مطابق ایرانی صدر کا متوقع دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری کا باعث بن سکتا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت، توانائی، سرحدی تعاون اور علاقائی امن و استحکام سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے فروغ کے امکانات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ علاقائی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے دونوں برادر ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی روابط مزید مضبوط ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اگر دورے کی باضابطہ تصدیق ہوتی ہے تو یہ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کا ایک اہم مرحلہ ہوگا، جس پر دونوں ممالک کے سیاسی اور سفارتی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔